Sunday, 18 November 2018
یوٹرن کیوں ضروی ہے تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی سے مسلمہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ کہ یوٹرن کامیاب لوگوں کاخاصہ ہے
یوٹرن کیوں ضروی ہے
تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی سے مسلمہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ کہ یوٹرن کامیاب لوگوں کاخاصہ ہے۔ زندگی ایک جہد مسلسل کا نام ہے جس میں کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں مدنظررکھی جاتی ہیں۔ زندگی کی راہوں میں ہرلحمہ دوراہوں سے واسطہ پڑتا ہے اور انسان کو ہر دوراہ ے پر فوری فیصلہ کرکے صحیح راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ بازاوقات بشری تقاضوں کے تحت انسان فیصلے میں غلطی کر بیٹھتا ہے پر رحمانی یا تائیدایژی کے باعث احساس ہو جاتا ہے کہ فیصلہ غلط تھا اور پھر یوٹرن لے کر درست سمت چلا جاتا ہے۔ اگر یوٹرن کو غلط یا معنے سمجھ لیا جائے تو بندا کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا غلط فیصلے اسے دور تک منزل سے بھٹکا دے گے۔ چند مثالیں تاریخ سے کارئین کے لیے حاضر خدمت ہیں۔ خلاق کائنات نے آدم علیہ سلام کی پسندیدہ صفت توبہ قرار دی ہے۔ بقول اقبال
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے تھے جو میرے عرق انفعال کے
انفعال حقیقت میں ندامت ہے اور ندامت یوٹرن کی عمدہ مثال ہے۔ آدم علیہ سلام سے لے کے ختم المرسلین صلی علیہ والہ وسلم تک جن انبیا کے قصے قرآن میں ہیں اکژ مقامات پر یوٹرن کی مثالیں ملتی ہیں۔ اللہ تعالی نے بندے کے لیے توبہ کا موقع یوٹرن ہی رکھا ہے اور اسے اتنا پسندیدہ کہا کہ توبہ سے گناہ گارہوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیا جاتا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنو کے اسلام لانے کا واقعہ یوٹرن کی عمدہ مثال ہے۔ میدان کربلا میں جناب حر رضی اللہ عنو کا کردار بھی ایک عمدہ یوٹرن ہے جو آج بھی پوری کائنات کو دعوت دیتا ہے کہ بندہ اگر جناب حانی نا بنے تو کم ازکم حر کی طرح یوٹرن ضرور لے قآن کا حکم ہے قون مع الا صادقین یعنی سچوں کے ساتھ شامل ہو جاو۔ یوٹرن سچ کی دعوت ہے۔ زندگی کی ہر دو رویہ سڑک پر کئی جگہ پر یوٹرن انہی کی درستگی کے لیے بناےجاتے ہیں۔ بابر نے ایک مرتبہ شکست کھانے کے بعد فوری طور پر توبہ کی اور اس توبہ کے ثبوت کے لیے شراب کے مٹکے توڑ دیے۔ دیوار برلن جو سالوں تک جرمنی میں گوروں اور کالوں کی علیحدگی کے فلسفے کے تحت بنی لیکن خام فلسفہ دانوں نے تھوڑے سالوں میں گٹنے ٹھیک دیےاور یوٹرن لیتے ہوے دیوار برلن گراہ دی گئی۔ کا نگرس کے سب سے سرگرم کارکن اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح یوٹرن لے کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیارنہ کرتے اور ایک آزاد اور خود مختیار اسلامی ریاست کا مطالبہ نہ کرتے توآج ہم شاید آزاد نہ ہوتے۔ کوئی بھی تھیوری اور نظریہ اس وقت تک عروج پر ہوتا ہے جب تک اس کو غلط ثابت کرکے نئی تھیوری نہیں آتی اور اگر نیا نظریہ آجائے تو تمام پیروں کاروں کو یوٹرن لینا پڑتا ہے
موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ایک نئے سیاست دان ہیں۔ سارے تجربے نئے ہیں کسے بھی مفروضے یا نظریے کو حتمی نہیں کیا جا سکتا۔ قوم اور وطن کی بہتری کے لیے ہر غلط فیصلے پر یوٹرن ضروری ہے حضرت علی رضی اللہ عنو کا قول مبارک ہے۔ بہت سی جلد بازیاں تاکیروں کا باعث بنتی ہیں۔ عمران خان کی مجبوری ہے کہ موجودہ بحران میں فیصلہ لینا پڑتا ہے۔ اور جلدی کے فیصلے یوٹرن کے متقاضی ہیں
Wednesday, 14 November 2018
وہ فیملی امیر لگ رہی تھی لیکن ان کے دل غریب تھے احساس سے خالی تھے۔ اس فیملی کے ساتھ ان کی ایک خادمہ بھی بیٹھی تھی جو صرف ان کا سامان اپنے ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی اور ان کو کھاتے ہوے دیکھ رہی تھی
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس میں وہ تمام تر خوبیاں رکھ دی جو کے باقی جانداروں میں نہیں ہیں حضرت آدم علیہ سلام کی تخلیق اللہ نے ایک خاص مقصد کے لیے کی ۔ تخلیق کے بعد زمیں پر بھیج دیا اور صحیح ور غلط کا فرق بتا دیا۔ یہ تو بات تھی انسان کے تخلیق اور اس کے متعلق لیکن انسان کا وہ روپ بڑا ہی بھیانک ہے جس میں وہ انسانیت کی ساری حدود کو پار کر کے اپنا شمار ظاہری طور پر حیوانوں میں کرواتا ہے ۔ ایک واقعہ جس کی وجہ سے اس مخلوق پر سوال اٹھتا ہے، جس کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا گیا ہے ۔ ایک روز کالج سے کلاس پڑھنے کے بعد دوستوں کے ساتھ ایک ہوٹل پر گیا ہم کل پانچ دوست تھے پانچوں دوست ایک میز کے گرد لگی کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد ویڑر ہمارے پاس آیا ہم نے اسے بریانی کا آڈر دیا ۔ بریانی بھی آگئی ہم سب کھانے میں مشغول ہو گئے اچانک میری نظر ایک میز پر پڑی جوکے میرے میز کے سامنے تھا ۔ اس میز پر ایک فیملی بیٹھی ہوئی تھی بظاہر تو وہ فیملی امیر لگ رہئی تھی لیکن ان کے دل غریب تھے احساس سے خالی تھے۔ اس فیملی کے ساتھ ان کی ایک خادمہ بھی بیٹھی تھی جو صرف ان کا سامان اپنے ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی اور ان کو کھاتے ہوے دیکھ رہی تھی۔ میں ان کی طرف دیکھتا رہا مجھے اپنا کھانا بھول گیا اور میری توجہ بھی اس فیملی پر اور ان کی خادمہ کی طرف تھی۔ اچانک مالکن نے دیکھا کے ملازمہ ان کو کھاتے ہوئے دیکھ رہی ہے تو مالکن نے ڈانٹ دیا اور نا دیکھنے کو کہا، خادمہ بچاری مظلومیت کی چادر اوڑے ان کے سامنے بے بسی کی تصویر بن کر مالکن کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے اور اس میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے اس کی مالکن کی آنکھوں میں شدید غصہ اوراس کی سوچ میں فروعونیت تھی میں سوچتا رہا کے ایک مسلمان کے لیے زندگی کے تمام معاملات میں راہنماہی اللہ نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں رکھ دی ہیں تو پر کیوں کر ہم غافل ہیں۔ حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم نے تو یہ سارے قاعدے ختم کر دیے تھے جس میں انسان کی تذلیل ہو۔ تمام لوگوں کو بھائی چارے اخوت اور ایثار کا درس دیا۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھےکرّوبیاں
پیارے آقا حضرت محمد صلی علیہ والہ سلم کا فرمان عالی شان ہے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ اسلم کی آخری نصحیت بھی تھی۔ ایک نماز نہ چھوڑنا اور دوسرا اپنے ملازموں کے ساتھ اچھا سلوک رکھنا ۔
میں اپنے میز سے اٹھا اور اس مالکن کو کہا آنٹی آپ کو پیارے آقا صلی علیہ والیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ سناوں ،آنٹی نے حیرانی سے کہا جی بیٹا ضرور ۔مین نے کہا آنٹی رسول اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کے اپنے ملازموں کے ساتھ اچھا برتاو کرنا ۔ میں نے اس کو اپنا اخلاقی فرض سمجھا اور دوبارہ اپنے میزپرآ کر بیٹھ گیا۔
ہمارے معاشرے میں اب بھی بہت سے لوگ موجود ہیں جو اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ان کے پاس دولت ہے توسب کچھ ہے اور وہ اعلیٰ اور بہترین لوگ ہیں۔ اور جب ان لوگوں کے سامنے کوئی غریب آتا ہے تو ان کی اندر کی فرعونیت جاگ جاتی ہے جبکہ یہ دولت تو دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کا امتحان ہے ایسے لوگ جو اپنے سے کم درجے والے انسان کو حقیر سمجھے وہ انسان کہلانے کا حقدار نہیں۔ انسان کے پاس دولت کا ہونا بڑے دل کی ضمانت نہیں بلکہ بڑا دل تو وہ ہے جس میں تمام مخلوق کے لیے پیار ہو اور حقارت دور دور تک نہ ہو۔ عبدستارایدھی جیسے لوگ بڑے دل کی اعلی مثال ہیں ایدھی اپنے بچپن میں ملنے والے روزانہ کے دس روپے جیب خرچ میں سے پانچ روپے کا غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے ۔ ہماری بھی زمہ داری ہے اگر ہم ایدھی صاحب جیسا نہیں کر سکتے تو پھر اتنا تو کر سکتے ہیں کے جب بھی کھانا کھانے لگے تو اس ہوٹل کے آس پاس ایسے شخص کو ضرور تلاش کرے اور اپنے ساتھ کھانا کھلائے جو کسی مسیحا کی تلاش میں وہاں ہو
Sunday, 11 November 2018
امی مجھے بھی ڈاکڑبننا ہے
زندگی کے ان مشکل حلات میں جو لوگ اللہ پر توکل کیے اؑس کی نعمتوں کا تمام تر حالات میں شکر ادا کرتے ہوئے زندگی بڑی ہی خوش اسلوبی سے گزار دیتے ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں وہ لوگ معاشرے کے سامنے اطمینان والی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بڑا ہی تلخ ہے ایک۔ ایک شام میں آفس سے واپس گھرآ رہا تھا میرا گزر ایک گلی سے ہوا گلی کے کونے میں ایک خستہ حال گھر تھا ۔اس گھر میں بچے کے رونے کی آواز آرہی تھی جیسے کوئی بچہ اپنی ماں سے زد کر رہا ہو۔ میں نے بھی درد انسانی کے ناطے وہاں رک کر بچے کی آواز کو سننے کی کوشش کی پاس جا کر آواز واضع سنائی دی۔ بچہ اپنی ماں سے رو کر زد کر رہا تھا۔ کہ امی میں نے بھی بڑا ہو کر ڈاکڑ بننا ہے امی مجھے بھی سکول جانا ہے اور بہت سارا پڑھنا ہے اور اس کی ماں اس کو سمجھا رہی تھی کے بیٹا ایسا ممکن نہیں ہم بہت غریب ہیں ہماری تو اتنی آمدنی نہیں ہے جو میں تم کو پڑھا لکھا سکوں اور تمہارے سارے تعلیمی اخراجات پورے کر سکوں ۔ بیٹا آپ کی اور میری کمائی سے بڑی مشکل گھر کا گزر بسر ہوتا ہے اور اوپر سے گھر کا کرایہ بجلی گیس کا بل ان سب میں ہی سارے پیسے خرچ ہو جا تے ہیں بیٹا ہم غریب ہیں ہم تودو وقت کا کھانا بڑی مشکل سے کھاتے ہیں اس لیے یہ پڑھائی کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو۔ میں وہاں پر کھڑا شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا ۔ کہ کہاں ہیں وہ حکومتی ادارے کہاں ہیں وہ نام نہاد اینجیوزجو کہ انسانی حقوق کی علم بردار ہیں۔ کہاں ہے وہ حکومت کی طرف سے تعلیم کے نام پر مختص کیا گیا وہ بجٹ جو کے صرف کاغذوں اور فائلوں تک محدود ہے اس ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں دنیا اپنی نظریں مریخ پر جمائے ہوئے ہے۔ اور ایک طرف میرا ملک جہاں پر یہ حال ہے کہ غریب گھر کا بچہ جسے پڑھنے لکھنے کا شوق ہو اور وہ پڑھنے لکھنے کے قابل بھی ہو تو کیوں کر اس کو علم کے نور سے محروم رکھا جائے۔ میں بہت دیر تک وہاں یہ سوچتا رہا کہ ان بچوں کا کیا قصور جویہ تعلیم کے زیور سے محروم ہیں۔ ہماری تاریخ بہت روشن ہے۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہو کا دور حکومت سب کے لیے مثالی ہے تو اس کے باوجود مسلمانوں کے بچے ایسے کیوں ۔علامہ اقبال نے بھی اس قوم کو جگانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر یہ قوم ٹس سے مس نہیں
تھے وہ آبا تمہارے مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
تھے وہ آبا تمہارے مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
میرے ملک کا ہربچہ ڈاکڑ اور انجنیر ہے میرے ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ ہر سطح پر میرے ملک میں قابل، اپنے اپنے شعبے کے کاریگر انسان موجود ہیں۔ لیکن وسائل کی کمی ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ہر آنے والی نئی حکومت اپنی طرف سے اقدام اٹھاتی ہے تعلیم پر خرچ کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔ مگر تعلیم پر پیسہ خرچ ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس گلی کے کونے میں رہنے والے بچے کوئی عام بچے نہیں بلکہ ان میں ہی مستقبل کا ڈاکرعبدالقدیر خان، ارفع کریم علی معین نوازش ڈاکڑ ثمر مبارک مند موجود ہوں۔ میں نے دروازہ پر دستک دی۔ ان کی والدہ نے دروازہ کھولا میں نے اس کو بتایا کہ میں نے آپ کا اپنے بچے کے ساتھ مکالمہ سن لیا۔ آپ کا بچہ ڈاکڑ ضروربنے گا میں نے اس بچے کو سکول میں داخل کروا دیا اس کی ماہانہ فیس کا انتظام بھی اللہ کی مدد سے کر دیا۔ لیکن یہ تو ایک بچہ تھا جس کی مدد للہ نے غیبی طریقے سے کردی پتا نہیں اور کتنے بچے ہیں جو اپنے اپنے گھروں میں یہ فریاد کر رہے ہوں گے اور ان کے والدین یا والدہ کسی مسیحا کے انتظار میں ہوں گے۔ کسی بھی ریاست کی زمہ داری ہے میں شامل ہے کہ وہ اپنی ریاست میں موجود اس طبقہ کے لیے اقدام کرے تاکہ وہ بچے بھی تعلیم حاصل کر سکے اور اپنی زندگی کا گزر بسر اچھے طریقے سے کر سکے ۔
Saturday, 10 November 2018
فلاحی ریاست کی طرف ایک اور قدم - وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں سڑکوں پر کھلے آسمان تلے سونے والے غریب اور نادار بے گھر لوگوں کیلئے شیلٹر ہوم "پناہ گاہ" کا سنگِ بنیاد رکھ دیا.
کے آج میں نے لاہور میں بے گھر پناہ گزینوں کی پہلی رکنیت رکھی اوردوسرے طرف پنڈی میں ایک میں پناہ گزینوں کے لۓ رکھا ہے. ہم اپنے غریب شہریوں کے لئے ایک سماجی نیٹ کی تعمیر کرنے جا رہے ہیں اور ہم اس کے لئے پرعزم ہیں لہذا ہر کسی کو اس کو صحت اور تعلیم کے سربراہ تک رسائی حاصل ہے
انکل دیکھنے میں چھوٹا نظر آتا ہوں لیکن حقیقت میں اپنے گھر کا بڑا اور اپنے والد کے بعد گھر کا زمہ دار ہوں
موٹروے اور عام سٹرکوں پر جو ڈھابے موجود ہیں۔ ان ڈھابوں پر کام کرنے والے بچے جنھیں معاشرے کے لوگ اور ان کے اپنے مالکان اکثر چھوٹے کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان ننھے چھوٹو بچوں کی سوچ کیسی ہوتی ہے۔ میرے ساتھ بھی ایک واقعہ پیش آیا جس نے میرا دل ہلا کر رکھ دیا۔ اور اس واقعے کا اثر کئی دن تک میرے اوپر رہا اور مجھے لکھنے پہ مجبور کیا۔ آخر یہ بچے بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں ۔ان کو بھی تو پڑھنے لکھنے کا حق ہونا چاہیے۔ میں موٹروے پر جا رہا تھا راستے میں ایک ڈھابے پر چائے پینے کے لیے رکا۔ اس ڈھابے پرتین بچے ملازم تھے جن میں سے ایک بچہ انتہائی معصوم لگ رہا تھا جیسے کوئی معصوم فرشتہ ہو ۔میں نے اس بچے کو اپنے پاس بلا کر اس سے بات کرنا شروع کردی ۔تم سکول جاتے ہو ،جی ہاں انکل میں پانچویں جماعت کا طالب علم ہوں تمارے ابو کیا کرتے ہیں۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوے میں نے بچے کی آنکھوں میں نمی دیکھی جی میرے ابو اس دنیا اب نہیں ہیں میں نے اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور پھر پوچھا تمہارا کوئی بڑا بھائی ہے تو اس نے کہاانکل گھر میں بڑا میں ہی ہوں اور ابو کے جانے کے بعد یہ زمہ داری اب مجھ پرہے امی کے ساتھ کماتا ہوں ۔ سکول کے بعد رات دیر تک میں ادھر کام کرتا ہوں اور اس آمدن سے ہمارا گزر بسر ہوتا ہے ابھی میں اس سے بات کر ہی رہا تھا تو اس کے مالک نے اسے چھوٹے کہہ کر بلایا میں بچے کو دیکھ کر جذباتی ہو رہا تھا کہ بچہ دوبارہ واپس آیا اور کہنے لگا انکل دیکھنے میں چھوٹا نظر آتا ہوں لیکن حقیقت میں اپنے گھر کا بڑا اور اپنے والد کے بعد گھر کا زمہ دار ہوں میں اس بچے کی باتیں سن کر میں حیران رہ گیا کہ اتنی کم عمری میں اتنی پختہ باتیں جب کے دوسری طرف دیکھاجاے تو اس عمر میں بچے کارٹونز کے بارے میں ہی بتا سکتے ہیں ۔ معاشرے کے اندر بہت سے کردار ایسے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جن کو دیکھ کرخطرہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی اب مشکل ہے لیکن وہ اللہ پر توکل کر کے ہماری آنکھوں کے سامنے تمام تر حالات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ میں نے اس بچے کی مدد کرنے کے لیے اپنا بٹوہ نکالا تو اس بچے نے یہ کہتے ہوئے پیسے لینے سے انکار کر دیا انکل اس کی کوئی ضرورت نہیں میں خود کما لیتا ہوں ۔ جہاں پر ضرورت اس امر کی ہے حکومتی سطح پر ایسے بچوں کی مدد کی جاے اور یہ ریاست کی زمہ داری میں شامل ہے کہ حکومت ان کی تعلیم کے ساتھ ماہانہ وظیفہ رکھے تاکہ ایسے بچے جن کی کفالت والا کوئی نہیں ہے وہ بھی مستقبل میں اچھی تعلیم حاصل کر کے ملک اور قوم کا نام روشن کر سکے۔ از قلم۔ محمد احمد درانیFriday, 9 November 2018
پاکستان ایف سی بلوچستان نے امریکی ڈرون مار گرایا۔ ڈرون بلوچستان کے افغان باڈر کے قریب پرواز کررہا تھا
پاکستان ایف سی بلوچستان نے
امریکی ڈرون مار گرایا۔ ڈرون بلوچستان کے افغان باڈر کے قریب پرواز کررہا تھا ایف
سی بلوچستان نے بروقت کاروائی کرکے ڈرون گرادیا جس پر نیٹو فورس شدید برہم پاکستان
افواج نے بھی واضح کردیا اگر دوبارہ کبھی بھی ڈرون آیا تو مار دیا جائے گا۔
سلام ایف سی بلوچستان.... پاکستان کی اب کامیبابی کی جانب اور اب پاکستان کسی کا
خوف نہیں کیونکہ اب پاکستان ایک نہ ڈر لیڈر ملا اب پاکستان کو کوئی بھی میلی آنکھ
نہیں دیکھ سکتا ۔پاکستان کی طرف سے یہ بات امریکہ کو واضع طور پر بتا دی
گئی ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے اور دشمن کسی بھی قسم کی
بھول میں نا رہے ۔ پاکستان کے آرمی چیف نے بھی کہا ہم آنکھیں نکال دے گے۔
پاکستان کسی بھی قسم کی جارہیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستان
کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔موجودہ حالات کے پیش نظر امریکہ اپنی تمام تر توانائی
کے باوجود افغانستان میں شکست زدہ ہے اور اب نکلنے کے راستے تلاش کر رہا ہے۔
اور اب پاکستان حکومت سے بھی رابطے کر رہا ہے
اللہ
پکستان کے حفاظت کرے
Thursday, 8 November 2018
ﺣﻀﺮﺕ_سیدنا_ﻋﻤﺮ_ﻓﺎﺭﻭﻕ_ﺭﺿﯽ_ﺍﻟﻠﮧ_ﻋﻨﮧ ﻧﮯ دنیا ﮐﻮ ﺍیسےسسٹم ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ
#ﺣﻀﺮﺕ_سیدنا_ﻋﻤﺮ_ﻓﺎﺭﻭﻕ_ﺭﺿﯽ_ﺍﻟﻠﮧ_ﻋﻨﮧ
ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ :
✅ ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺟﯿﻞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﻣﻮٔﺫﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮟ
✅ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﺍﯾﺎ.
✅ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
✅ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔
✅ ﺍٓﺏ ﭘﺎﺷﯽ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺍﯾﺎ۔
✅ ﻓﻮﺟﯽ ﭼﮭﺎﻭٔﻧﯿﺎﮞ ﺑﻨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ، ﻣﻌﺬﻭﺭﻭﮞ، ﺑﯿﻮﺍﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮯ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ، ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﮯ ﮈﮐﻠﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔
✅ ﺍٓﭖ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﻗﺎﻓﻠﻮﮞ ﮐﯽ نگرانی ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﺪﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ کہ :
146146ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﭽﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔145145
ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻣﮩﺮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ
146146ﻋﻤﺮ ! ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺕ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ145145
◾ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺌﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﺮ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﯿﻨﺪ ﺍٓﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﭘﺮ ﭼﺎﺩﺭ ﺗﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﺭﺍﺯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﭘﺮ 14ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﯿﻮﻧﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺥ ﭼﻤﮍﮮ ﮐﺎ ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﮭﺮﺩﺭﺍ ﮐﭙﮍﺍ ﭘﮩﻨﺘﮯ
ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﮭﯽ۔
◾ ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺨﻤﯿﻨﮧ ﻟﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
◾ ﺍٓﭖ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﮐﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ، ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﺎ، ﭼﮭﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﭨﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﺩﺭﺑﺎﻥ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔
◾ ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﻈﻠﻮﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ.
◾ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺍٓﺝ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﭨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ "ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ۔"
◾ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ "ﻋﻤﺮ ﺑﺪﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﯿﺎ۔145145
◾ ﺍٓﭖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ 146146ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ 145145 ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ...!
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮨﮯ ، *ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﻋﺪﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ
ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺪﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﻝِ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ ...!
ﺍٓﭖ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﺗﮭﮯ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻭﺍﺣﺪ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻋﻤﺮ (ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺘﻨﺎ ﮨﻮﮔﯽ ...!
ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ :
146146 ﻟﻮﮔﻮ ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔145145
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ :
146146 ﺗﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ۔145145
ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﻮﻻ :
146146ﺟﺐ ﺗﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﺮﯼ
ﺑﮭﯿﮍﯾﮟ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍٓﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮞﺪﯾﮑﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍٓﺝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔145145
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ۔ﺟﺲ ﺟﺲ ﺧﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ...!
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 245 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ...!
ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺍﻥ 6 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﭼﮭﭩﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ، ﻣﻌﺬﻭﺭ، ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻭﮦ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ، ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ
ﻋﻈﯿﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﮏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ...!
ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ کہ :
146146 ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔145145
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﮨﺮ ﻻﻝ ﻧﮩﺮﻭ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ کہ :
146146ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍٓﺝ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ۔ﮔﺌﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ (ﺣﻀﺮﺕ) ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ (ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔145145
ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺘﺸﺮﻗﯿﻦ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ :
"ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﺳﻼﻡ ﮨﯽ ﺩﯾﻦ ﮨﻮتا ﻣ
دوستوں چلتے، چلتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....!
جزاک اللہ خیرا کثیرا.
علامہ اقبال کی وہ نظم جو پیروں کے خلاف لکھی مولوی آپ کو نہیں بتاہیں گے
علامہ اقبال کی وہ نظم جو پیروں کے خلاف لکھی مولوی آپ کو نہیں بتاہیں گے
علامہ اقبال کی ایک نظم باغی مرید ہے جس میں علامہ اقبال نے جعلی قسم کے پیر جن کا مقصد دنیا کی خوشنودی اور شہرت ہے ان کو علامہ نے اپنی اس نظم میں خوب آڑے ہاتھوں لیا ۔اور اپنی تنقید کا نشانہ بنایا علامہ اقبال اس نظم میں لکھتے ہیں
باغی مُرید
ہم کو تو میسّر نہیں مٹّی کا دِیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
شہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہ
مانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن
نذرانہ نہیں، سُود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن
میراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصّرف میں عقابوں کے نشیمن
اقبال کی اس نظم کے تنا ظر میں دیکھیں تو ہمیں دور حاضر میں بھی ایسے بیشتر پیر اور مولوی ملئے گے جن کے اندر اخلاص موجود نہیں ہو گا
علامہ اقبال کی ایک نظم باغی مرید ہے جس میں علامہ اقبال نے جعلی قسم کے پیر جن کا مقصد دنیا کی خوشنودی اور شہرت ہے ان کو علامہ نے اپنی اس نظم میں خوب آڑے ہاتھوں لیا ۔اور اپنی تنقید کا نشانہ بنایا علامہ اقبال اس نظم میں لکھتے ہیں
باغی مُرید
ہم کو تو میسّر نہیں مٹّی کا دِیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
شہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہ
مانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن
نذرانہ نہیں، سُود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن
میراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصّرف میں عقابوں کے نشیمن
اقبال کی اس نظم کے تنا ظر میں دیکھیں تو ہمیں دور حاضر میں بھی ایسے بیشتر پیر اور مولوی ملئے گے جن کے اندر اخلاص موجود نہیں ہو گا
علامہ محمد اقبال پربچپن میں قرآن پاک کا نزول
علامہ محمد اقبال پربچپن میں قرآن پاک کا نزول
ایک مرتبہ شاعرمشرق علامہ محمد اقبال قرآن مجید فرقان حمید کی تلاوت میں حسب معمول مشغول تھے۔ کہ آپ کے والد گرامی شیخ نور محمد آگئے۔ بیٹے کو انحماک سے تلاوت کرتے دیکھ کر خوش ہوئے اور اقبال سے سوال کیا کہ تو نے کبھی قرآن نازل ہوتے بھی دیکھا ہے۔ اس پر اقبال نے کہا میں سمجھا نہیں تو والد شیخ نور محمد نے کہا بیٹا ایسے
قرآن پاک کی تلاوت کر کہ تجھ پر قرآن نازل ہورہا ہو۔ اس بات کا علم اقبال کو بڑے ہو کر ہوا کہ نزول قرآن سے کیا مراد ہے۔علامہ اقبال قرآن پاک کے تلاوت رو رو کر کرتے رہتے اور نزول قرآن ہوتا رہتا تھا۔
ایک دفعہ علامہ اقبال کے ایک استاد نے آپ سے سوال کیا کہ آپ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر قرآن کیسے نازل ہوتا تھا۔ تو اس پر اقبال نے جواب دیا آپ قرآن کا پوچھتے ہو۔ محجھ پر پورے اشعار اور نظمیں نازل ہوتی ہیں۔
مجھے راز دوعالم دل کا آئینہ دیکھاتاہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے
ایک مرتبہ شاعرمشرق علامہ محمد اقبال قرآن مجید فرقان حمید کی تلاوت میں حسب معمول مشغول تھے۔ کہ آپ کے والد گرامی شیخ نور محمد آگئے۔ بیٹے کو انحماک سے تلاوت کرتے دیکھ کر خوش ہوئے اور اقبال سے سوال کیا کہ تو نے کبھی قرآن نازل ہوتے بھی دیکھا ہے۔ اس پر اقبال نے کہا میں سمجھا نہیں تو والد شیخ نور محمد نے کہا بیٹا ایسے
قرآن پاک کی تلاوت کر کہ تجھ پر قرآن نازل ہورہا ہو۔ اس بات کا علم اقبال کو بڑے ہو کر ہوا کہ نزول قرآن سے کیا مراد ہے۔علامہ اقبال قرآن پاک کے تلاوت رو رو کر کرتے رہتے اور نزول قرآن ہوتا رہتا تھا۔
ایک دفعہ علامہ اقبال کے ایک استاد نے آپ سے سوال کیا کہ آپ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر قرآن کیسے نازل ہوتا تھا۔ تو اس پر اقبال نے جواب دیا آپ قرآن کا پوچھتے ہو۔ محجھ پر پورے اشعار اور نظمیں نازل ہوتی ہیں۔
مجھے راز دوعالم دل کا آئینہ دیکھاتاہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے
اقبال کا بچپن میں نورانی حلقہ نور کا مشاہدہ
ایک مرتبہ علامہ محمد اقبال بچپن میں تہجد کے وقت بیدار ہوے تو دیکھا کہ ان کے والد گرامی شیخ نورمحمد جائے نماز پر بیٹھے تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے۔ اوران کے اردگرد نور کا ایک حلقہ بنا ہوا تھا آپ نے اپنی والدہ سے اس کا استفسارکیا تووالدہ نے جواب دیا کہ آپ ابھی چھوٹے ہو جب آپ بڑے ہوں گے توآپ کو خودبخودہی پتا چل جاے گا۔ ایسے سوال نہیں کیا کرتے چلو اب سو جاوۤ۔ آپ پھر والدہ کے پہلو میں پہلے کے طرح سوگے اور پھر دوبارہ سے اپ کو اپنے والدین سے یہ سوال کرنے کے ہمت نا ہوئی۔ جب علامہ اقبال بڑے ہو گئے تو آپ نے نورووجدان کا مشاہدہ خود کیا جن کا ذکر ان کے اپنے اشعار میں ملتا ہے۔
ہوصداقت کے لیے جس دل میں مرنے کے تڑپ
پہلے اس پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے
سوئے فلک بھجے سفیر نالہء شب گیر کا رات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے۔ اسی کشمکش میں گزری میری زندگی کی راتیں کبھی سوزساز رومی کبھی پیچ وتاب جامی
ہوصداقت کے لیے جس دل میں مرنے کے تڑپ
پہلے اس پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے
سوئے فلک بھجے سفیر نالہء شب گیر کا رات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے۔ اسی کشمکش میں گزری میری زندگی کی راتیں کبھی سوزساز رومی کبھی پیچ وتاب جامی
وہ رات جس میں حضرت داتاعلی ہجوری اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی علامہ اقبال کے گھرمہمان بن کرآے ۔ علامہ اقبال کے گھر میں ملازم علی بخش جن کا ذکر علامہ اقبال اپنی شاعری میں بھی کیا ہے علی بخش علامہ اقبال کی
میں لسی لینے بازار گیا یہ سردیوں کے دن تھے جب میں انارکلی بازار پونچھا تو وہاں ایک دودھ دہی کی دکان پر شمع جل رہی تھی میں نے دکان والے کو لسی کا کہا تو اس نے اس وقت ہی بنا دی میں نے پیسوں کا کیا تو دکان والے نے کہا اقبال کے ساتھ ہمارا حساب چلتا ہے علی بخش لسی لے آے اور مہمانوں کو دے دی ۔دو گلاس بزرگوں نے پیے اور ایک گلاس علامہ کو پینے کا کہا گیا اقبال نے بھی پی لیا پر محجھے دوبارہ مدعو کیا گیا میں کمرے میں دوبارہ گیا تو مہمان وہاں سے جا چکے تھے علامہ اقبال نے کہا ان کو واپس بلا کر لاو میں ان سے ابھی اور باتیں کرنی ہیں میں نے کہا دروازہ اندر سے بند ہے تو اس پر وہ خاموش ہو گے ۔علی بخش کہتے ہیں میں نے بہت دنوں کے بعد پوچھا حضور وہ کون شخصیات تھی جن کی میں نے بھی زیارت کی ہے علی بخش کہتے ہیں میرے بے حد اسرار پر علامہ نے کہا یہ راز میری زندگی میں کسی کو نہیں بتانا اس شرط پر علامہ نے بتایا کے ان میں سے ایک خواجہ معین الدین تھے اور جو دکان پر لسی والے تھے وہ داتا علی ہجوری تھے کیونکہ یہ ان کے مہمان تھے
Wednesday, 7 November 2018
شلوار پر گرنیوالی چائے کا برا منائے بغیر اسی شلوار سے کپتان صاحب ساری تقریب میں شریک رہے یہ ادا چینیؤں کا دل چرا
تقریب کے دوران ایک چینی میزبان کے کپ سے شلوار پر گرنیوالی چائے کا برا منائے بغیر اسی شلوار سے کپتان صاحب ساری تقریب میں شریک رہے یہ ادا چینیؤں کا دل چرا گئی اور وہ پاکستانی روپوں میں تجارت پر راضی ہوگئے اور یہ چائے چائنا کے ایک بڑے بزنس گروپ ڈالیان وانڈا کے چیئرمین وانگ جیان لن کے کپ سے گری تھی اور وہ شرم ۔ سے پانی پانی ہو رہے تھے لیکن کپتان نے الٹا سوری کہ کر انکو شرمندگی سے بچا لیا چیزوں کی پروجیکشن پسند نہیں کرتےکپتان ایسیڈاکڑ عافیہ صدیقی کوامریکہ میں قید سے آزادی مل گہی اور بہت جلد وہ پاکستان میں ہوں گی
ڈاکڑعافیہ صدیقی کو اب بہت جلد قید سے آزادی ملنے والی ہے اس خبر کا دعوہ ڈاکڑ شاید مسعود نے سماجی ربطے کی ویب سایٹ ٹویڑ پرکیا یے ان کا کنا تھا امریکہ نے پاکستان کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بلامشروط رہائی کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ اور اس کا مکمل کریڈیٹ صرف اور صرف عمران خان اور وزراتِ خارجہ کو جاتا ہےTuesday, 6 November 2018
Monday, 5 November 2018
اندازہ کریں۔۔ پوری دنیا کے فیصلے یہ صاحب کر رہا ہے۔۔
اس کا فیصلہ بھی اب ڈاکٹر ہی کریں گے، بہت جلد ایجنسیز اس کو مینٹلی ان فٹ قرار دینے والی ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی راناثناءاللہ کا ماہیک بند کردیا گیا۔اس داران راناثناءاللہ کے کیا الفاظ تھے جس پر سپیکر اسد قیصر نے یے کام کیا
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی راناثناءاللہ کا ماہیک بند کردیا گیا۔اس داران راناثناءاللہ کے کیا الفاظ تھے جس پر سپیکر اسد قیصر نے یے کام کیا اجلاس کے دوران راناثناءاللہ نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہو کہا ہم نے ان دھرنوں کو تین سال بھگتا ہے اور اس مصیبت اور مشکل کو ابھارنے میں ہمارے یہ بھائی انکے شانہ بشانہ ہوتے تھے
اگر پی ایم ایل این چاہتی تو حکومت کو مشکل ٹائم دے سکتی تھی پر ہر لحاظ سے محتاط اور سیاسی شعور دکھا کر اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہی
جب بچے کے بال میں کنگھی کرو تو اسے بتاؤ کہ بالوں ميں کنگھی کرنا پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے:
تربیتِ اولاد کا بہترین طریقہ یہی ہے
جب بچے کے بال میں کنگھی کرو تو اسے بتاؤ کہ بالوں ميں کنگھی کرنا پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے:
(مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ)
(حبِّب إليَّ من دنياكم النساء والطيب، وجعلت قرة عيني في الصلاة)
ترجمہ: مجھے تمہاری دنیا کی خوشبو اور عورت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے.
(رواه النسائى (3939) وصححه الحاكم (2 / 174) ووافقه الذهبي ، وصححه الحافظ ابن حجر في "فتح البارى" (3 /15) و (11 / 345).
جب بچے کو مدرسہ بھیجو تو اسے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سناؤ: من سلك طريقاً يطلب فيه علماً سهل الله له طريقاً إلى الجنة.
(تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ)
ترجمہ: اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے.
(ترمذى (1956)
جب بچے کی تعریف کرو تو اسے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سناؤ: (الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ)
ترجمہ: اچھی بات بهی صدقہ (نیکی) ہے. (البخارى ( 2734)
جب تم اپنا کھانا بچے کے پلیٹ ميں ڈالو تو اسے بتاؤ کہ یہ بھی نیکی کا کام ہے ارشاد نبوی ہے:
(... وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ.)
ترجمہ: اپنے برتن سے کوئی چیز لے کر اپنے بھائی کے برتن ميں ڈالنا صدقہ اور نیکی ہے. (ترمذى (1956)
جب تم کہیں ایسی محفل میں ہو جہاں بڑے بزرگ لوگ ہوں تو اپنے بچے کو ان کی خدمت کے لئے کہو اور اسے بتاؤ کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا یہ ایک طریقہ ہے کیونکہ ارشاد نبوی ہے:
(لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا)
ترجمہ: جو چھوٹے پر رحم اور بڑے کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں.
(رواه الترمذى (1919)
الغرض اس طرح اپنے بچوں کی تمام حرکات و سکنات کو پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ اور سیرت طیبہ سے جوڑنے کا اہتمام کرنا چاہئے اور انهیں پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری پیاری حدیثیں سکھانی چاہئے.
جب بچے کے بال میں کنگھی کرو تو اسے بتاؤ کہ بالوں ميں کنگھی کرنا پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے:
(مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ)
ترجمہ: جس کے پاس بال ہوں تو اسے سنوارنا چاہئے. (رواه أبو داود (3632)
جب اپنے بجے کو خوشبو لگاؤ تو اسے بتاؤ کہ خوشبو لگانا پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے. ارشاد نبوی ہے:(حبِّب إليَّ من دنياكم النساء والطيب، وجعلت قرة عيني في الصلاة)
ترجمہ: مجھے تمہاری دنیا کی خوشبو اور عورت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے.
(رواه النسائى (3939) وصححه الحاكم (2 / 174) ووافقه الذهبي ، وصححه الحافظ ابن حجر في "فتح البارى" (3 /15) و (11 / 345).
جب بچے کو مدرسہ بھیجو تو اسے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سناؤ: من سلك طريقاً يطلب فيه علماً سهل الله له طريقاً إلى الجنة.
ترجمہ: جو علم سیکھنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان بنا دیتا ہے. (رواه البخاري / كتاب العلم/10)
جب بچے کے سامنے مسکراؤ تو اسے بتاؤ کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرانے کو صدقہ (نیکی) قرار دیا ہے:(تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ)
ترجمہ: اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے.
(ترمذى (1956)
جب بچے کی تعریف کرو تو اسے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سناؤ: (الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ)
ترجمہ: اچھی بات بهی صدقہ (نیکی) ہے. (البخارى ( 2734)
جب تم اپنا کھانا بچے کے پلیٹ ميں ڈالو تو اسے بتاؤ کہ یہ بھی نیکی کا کام ہے ارشاد نبوی ہے:
(... وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ.)
ترجمہ: اپنے برتن سے کوئی چیز لے کر اپنے بھائی کے برتن ميں ڈالنا صدقہ اور نیکی ہے. (ترمذى (1956)
جب تم کہیں ایسی محفل میں ہو جہاں بڑے بزرگ لوگ ہوں تو اپنے بچے کو ان کی خدمت کے لئے کہو اور اسے بتاؤ کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا یہ ایک طریقہ ہے کیونکہ ارشاد نبوی ہے:
(لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا)
ترجمہ: جو چھوٹے پر رحم اور بڑے کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں.
(رواه الترمذى (1919)
الغرض اس طرح اپنے بچوں کی تمام حرکات و سکنات کو پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ اور سیرت طیبہ سے جوڑنے کا اہتمام کرنا چاہئے اور انهیں پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری پیاری حدیثیں سکھانی چاہئے.
اللہ تعالى ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے.اس پیغام پر عمل بھی کریں اور شئیر بھی کریں تاکہ یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جاۓ ۔
Sunday, 4 November 2018
بابراعظم نے ایک اور تاریخ رقم کردی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا
بابراعظم نے ایک اور تاریخ رقم کردی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا بابر اعظم ٹی ٹونٹی میں سب سے تیزترین ۱۰۰۰ مکمل کرنے والے بلے باز بن گے
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ؛؛ حلیم ڈش ؛؛ کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم" اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور حلیم بنانا
؛؛؛ لفظ حلیم پر تحقیق؛؛
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ؛؛ حلیم ڈش ؛؛ کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم" اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور حلیم بنانا
کے افعال کے ساتھ اس لفظ کا استعمال گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔
امید ہےکہ وہ اپنے مقدمات کے لئے "وکیل" تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انسان کو وکیل کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اور یا پھر وہ وہ وکیلوں کے بارے میں مشہور ترین شعر سے بھی اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔"حکیم" سے دوا بھی نہیں لیتے ہوں گے کہ انسان حکیم کیسے ہو سکتا ہے؟
نہ تو ان کے بچے مدرسوں میں "اوّل" آتے ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس "آخر" میں کچھ "باقی" رہ جاتا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام بھی اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مرنے کے بعد ان کا کوئی" ولی" بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ انسان ولی کے درجے پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ یہ متقیان یقیناً مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو بھی "قابض" نہیں کہتے ہوں گے۔ 'ساڈی "باری" آن دیو' کا نعرہ بھی انہیں کفّار کی سازش لگتا ہوگا۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر "لطیفہ" کہنا بھی بے ادبی کے زمرے میں آنے لگے گا اور "ملِک" صاحب کہنا تو پھر سیدھا سیدھا کفر ہی ٹھہرےگا۔
لفظ " مصوّر" کے لئے تو پھر فتویٰ لینے کے بھی ضرورت نہیں ہے۔ کسی صحابی، ولی اللہ یا بادشاہ کو "جلیل" القدر کہنا شرک ٹھہرے گا اور "شہید" کا استعمال انسانوں کے لئے متروک قرار پائے گا۔ کسی کو " عظیم" کہنے پر پابندی ہوگی اور "مقتدر" قوتیں کہنے پر تعزیر جاری کی جائے گی۔ کوئی انسا کسی کا " والی" " وارث" نہیں کہلائےگا کیوں کہ یہ دونوں بھی اسمائے الہٰی ہیں۔ "ظاہر" و " باطن" بھی انسانوں کے لئے ممنوع قرار پائیں گے۔ کوئی عمل یا کاروبار " نافع" ہوگا اور نہ کوئی مسجد یا کتاب "جامع" کہلائے گی۔ بیشتر اردو شاعری کو دریا بُرد کرنا پڑے گا کیونکہ ناہنجار شاعروں نے "رقیب" کی دل کھول کر برائیاں کی ہیں جو کہ اس نئے اسلامی نظام کے بالکل خلاف ہے۔ اسی ہی طرح نہ تو کوئی کام "مؤخر" کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی کی برائی کرتے ہوئے اسے "منتقم" مزاج کہنے کی اجازت ہو گی۔
یہاں پر ایک سنگین مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت پڑے گی کہ صدیوں سے علمائے اسلام حضرت عثمان کو " غنی" لکھ رہے ہیں۔ اب ان کی تمام کتابوں کو کس طرح سے درست کیا جاسکتا ہے۔ اور اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آقائے دوجہاں، نبی آخر الزّماں نے تمام عمر اپنے عزیز ترین صحابی، عم زاد اور داماد کو "علی" کے نام سے پکارا اور یہ عمل نہ تو ربِّ کائنات کی بے ادبی کا باعث بن اور نہ ہی موجبِ شرک ٹھہرا۔ اب یہاں اس نئے فہمِ اسلام کو کیسے نافذ کیا جائے گا؟؟
ایسی باتیں کرنا جن سے عوام کے دل پراگنده اور خیالات منتشر هوں انتہائی غیر مناسب ہیں جیسا که یہی حلیم والی بات
عوام کے وہم و گمان میں بهی نہیں هو گا که الله تعالی کی بے ادبی کرتے ہیں، پهر خواه مخواه ایسی بات پهیلا کر انہیں پریشان کرنا دین کی خدمت نہیں بلکه عوام کی پریشانی هے
1:"آپ بخوبی جانتے ہیں که الله کے بہت سے صفاتی نام ہیں کچھ خاص ہیں جو اس کے سوا کسی پر نہیں بولے جا سکتے اور باقی مخلوق پر بهی بولے جاتے ہیں جیسے عظیم، کریم، رؤوف وغیره جیسے یه مخلوق پر بولنے سے کوئی بے ادبی نہیں هوتی ایسے هی حلیم بولنے سے بهی قطعا کوئی بے ادبی لازم نہیں آتی، بے ادبی لازم آنا تو دور کی بات هے بے ادبی کا شائبه بهی نہیں هوتا
2:"اگر کهانے کی ڈش کو حلیم کہنے سے بے ادبی کا شائبه پیدا هوتا هے تو حلیم کی تانیث ذکر کرنے سے بدرجه اولی هو گا کیونکه الله تعالی تذکیر و تانیث سے پاک هے حالانکه هم جانتے ہیں که ایسا بالکل نہیں بلکه اس کی تانیث خود حضور اقدس کے زمانے میں بولی جاتی تهی اور حضور علیه الصلوة والسلام نے اس سے منع نہیں فرمایا جیسا که آپ کی رضاعی والده کا اسم گرامی حلیمه سعدیه هے جب که حلیمه حلیم کی هی تانیث هے
3:"الله کے نیک بندوں کو بهی کی ان کی برد بار طبیعت کی وجه سے حلیم الطبع کہا جاتا هے
پته چلا که حلیم مخلوق پر بهی بولا جا سکتا هے اور کهانے کی ڈش بهی مخلوق هی هے لہذا اس پر بهی بول سکتے ہیں.
خواه مخواه اپنی انفرادی علمیت جتانے کے لیۓ دلوں کو پراگنده کرنے اور خیالات کو منتشر کرنے والی غیر مناسب باتیں کرنا علما کا منصب نہیں
چین کی کیمونیسٹ پارٹی کے سکول میں وزیر اعظم عمران خان نے پھر وہی تقریر دہرا دی جو وہ ڈی چوک میں دھرنے کے موقع پر کنٹینر سے فرمایا کرتے تھے۔
چین کے دورہ کے دوران وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں سنٹرل ماڈل سکول میں جو منعقد ءوی عمران خان نے کہا پا کسان میں ترقی چین کے ماڈلز کے زریے لاے گے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت اقدام اٹھانا ہوں گے ، اس تقریر پر اپوزیشن نے ان کو تنقید کا نشانا بنایا سماجی ربطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی سعدرفیق نے کہا اتنی نہ بڑھا پاکئِ داماں کی حکایت !!!!
بیجنگ میں بھی اپنے آپ کو فرشتہ اور باقی سب کو چور اور کرپٹ قرار دینے کی گردان جاری ۔۔
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ !!!! اس کے علاوہ دوسری طرف احسن اقبال نے نھی اپنا بیان دیتے ہوے کہا
چین کی کیمونیسٹ پارٹی کے سکول میں وزیر اعظم عمران خان نے پھر وہی تقریر دہرا دی جو وہ ڈی چوک میں دھرنے کے موقع پر کنٹینر سے فرمایا کرتے تھے۔ اس سے قبل وہ یہی خطاب ریاض میں عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں بھی فر ما چکے ہیں - ملک کی بد خوئیاں اور اپنی بڑائیاں -
بیجنگ میں بھی اپنے آپ کو فرشتہ اور باقی سب کو چور اور کرپٹ قرار دینے کی گردان جاری ۔۔
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ !!!! اس کے علاوہ دوسری طرف احسن اقبال نے نھی اپنا بیان دیتے ہوے کہا
چین کی کیمونیسٹ پارٹی کے سکول میں وزیر اعظم عمران خان نے پھر وہی تقریر دہرا دی جو وہ ڈی چوک میں دھرنے کے موقع پر کنٹینر سے فرمایا کرتے تھے۔ اس سے قبل وہ یہی خطاب ریاض میں عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں بھی فر ما چکے ہیں - ملک کی بد خوئیاں اور اپنی بڑائیاں -
عمران خان نے پیلے ہی واظع کر دیا تھا کے جس نے بھی کرپشن کی یے اس کے لیےکوہی معافی نہیں
Subscribe to:
Posts (Atom)








