Sunday, 18 November 2018
یوٹرن کیوں ضروی ہے تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی سے مسلمہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ کہ یوٹرن کامیاب لوگوں کاخاصہ ہے
یوٹرن کیوں ضروی ہے
تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی سے مسلمہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ کہ یوٹرن کامیاب لوگوں کاخاصہ ہے۔ زندگی ایک جہد مسلسل کا نام ہے جس میں کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں مدنظررکھی جاتی ہیں۔ زندگی کی راہوں میں ہرلحمہ دوراہوں سے واسطہ پڑتا ہے اور انسان کو ہر دوراہ ے پر فوری فیصلہ کرکے صحیح راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ بازاوقات بشری تقاضوں کے تحت انسان فیصلے میں غلطی کر بیٹھتا ہے پر رحمانی یا تائیدایژی کے باعث احساس ہو جاتا ہے کہ فیصلہ غلط تھا اور پھر یوٹرن لے کر درست سمت چلا جاتا ہے۔ اگر یوٹرن کو غلط یا معنے سمجھ لیا جائے تو بندا کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا غلط فیصلے اسے دور تک منزل سے بھٹکا دے گے۔ چند مثالیں تاریخ سے کارئین کے لیے حاضر خدمت ہیں۔ خلاق کائنات نے آدم علیہ سلام کی پسندیدہ صفت توبہ قرار دی ہے۔ بقول اقبال
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے تھے جو میرے عرق انفعال کے
انفعال حقیقت میں ندامت ہے اور ندامت یوٹرن کی عمدہ مثال ہے۔ آدم علیہ سلام سے لے کے ختم المرسلین صلی علیہ والہ وسلم تک جن انبیا کے قصے قرآن میں ہیں اکژ مقامات پر یوٹرن کی مثالیں ملتی ہیں۔ اللہ تعالی نے بندے کے لیے توبہ کا موقع یوٹرن ہی رکھا ہے اور اسے اتنا پسندیدہ کہا کہ توبہ سے گناہ گارہوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیا جاتا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنو کے اسلام لانے کا واقعہ یوٹرن کی عمدہ مثال ہے۔ میدان کربلا میں جناب حر رضی اللہ عنو کا کردار بھی ایک عمدہ یوٹرن ہے جو آج بھی پوری کائنات کو دعوت دیتا ہے کہ بندہ اگر جناب حانی نا بنے تو کم ازکم حر کی طرح یوٹرن ضرور لے قآن کا حکم ہے قون مع الا صادقین یعنی سچوں کے ساتھ شامل ہو جاو۔ یوٹرن سچ کی دعوت ہے۔ زندگی کی ہر دو رویہ سڑک پر کئی جگہ پر یوٹرن انہی کی درستگی کے لیے بناےجاتے ہیں۔ بابر نے ایک مرتبہ شکست کھانے کے بعد فوری طور پر توبہ کی اور اس توبہ کے ثبوت کے لیے شراب کے مٹکے توڑ دیے۔ دیوار برلن جو سالوں تک جرمنی میں گوروں اور کالوں کی علیحدگی کے فلسفے کے تحت بنی لیکن خام فلسفہ دانوں نے تھوڑے سالوں میں گٹنے ٹھیک دیےاور یوٹرن لیتے ہوے دیوار برلن گراہ دی گئی۔ کا نگرس کے سب سے سرگرم کارکن اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح یوٹرن لے کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیارنہ کرتے اور ایک آزاد اور خود مختیار اسلامی ریاست کا مطالبہ نہ کرتے توآج ہم شاید آزاد نہ ہوتے۔ کوئی بھی تھیوری اور نظریہ اس وقت تک عروج پر ہوتا ہے جب تک اس کو غلط ثابت کرکے نئی تھیوری نہیں آتی اور اگر نیا نظریہ آجائے تو تمام پیروں کاروں کو یوٹرن لینا پڑتا ہے
موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ایک نئے سیاست دان ہیں۔ سارے تجربے نئے ہیں کسے بھی مفروضے یا نظریے کو حتمی نہیں کیا جا سکتا۔ قوم اور وطن کی بہتری کے لیے ہر غلط فیصلے پر یوٹرن ضروری ہے حضرت علی رضی اللہ عنو کا قول مبارک ہے۔ بہت سی جلد بازیاں تاکیروں کا باعث بنتی ہیں۔ عمران خان کی مجبوری ہے کہ موجودہ بحران میں فیصلہ لینا پڑتا ہے۔ اور جلدی کے فیصلے یوٹرن کے متقاضی ہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment