Pages

Wednesday, 14 November 2018

وہ فیملی امیر لگ رہی تھی لیکن ان کے دل غریب تھے احساس سے خالی تھے۔ اس فیملی کے ساتھ ان کی ایک خادمہ بھی بیٹھی تھی جو صرف ان کا سامان اپنے ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی اور ان کو کھاتے ہوے دیکھ رہی تھی


اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس میں وہ تمام تر خوبیاں رکھ دی جو کے باقی جانداروں میں نہیں  ہیں حضرت آدم علیہ سلام کی تخلیق اللہ نے ایک خاص مقصد کے لیے کی ۔ تخلیق کے بعد زمیں پر بھیج دیا اور صحیح ور غلط کا فرق بتا دیا۔ یہ تو بات تھی انسان کے تخلیق اور اس کے متعلق لیکن انسان کا وہ روپ بڑا ہی بھیانک ہے جس میں وہ انسانیت کی ساری حدود کو پار کر کے اپنا شمار ظاہری طور پر حیوانوں میں کرواتا  ہے ۔ ایک واقعہ جس کی وجہ سے اس مخلوق پر سوال اٹھتا ہے، جس کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا گیا ہے ۔ ایک روز کالج سے کلاس پڑھنے کے بعد دوستوں کے ساتھ ایک ہوٹل پر گیا ہم کل پانچ دوست تھے پانچوں دوست ایک میز کے گرد لگی کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد ویڑر ہمارے پاس آیا ہم نے اسے بریانی کا آڈر دیا ۔ بریانی بھی آگئی ہم سب کھانے میں مشغول ہو گئے اچانک میری نظر ایک میز پر پڑی جوکے میرے میز کے سامنے تھا ۔ اس میز پر ایک فیملی بیٹھی ہوئی تھی بظاہر تو وہ فیملی امیر لگ رہئی تھی لیکن ان کے دل غریب تھے احساس سے خالی تھے۔ اس فیملی کے ساتھ ان کی ایک خادمہ بھی بیٹھی تھی جو صرف ان کا سامان اپنے ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی اور ان کو کھاتے ہوے دیکھ رہی تھی۔ میں ان کی طرف دیکھتا رہا مجھے اپنا کھانا بھول گیا اور میری توجہ بھی اس فیملی پر اور ان کی خادمہ کی طرف تھی۔ اچانک مالکن نے دیکھا کے ملازمہ ان کو کھاتے ہوئے دیکھ رہی ہے تو مالکن نے ڈانٹ دیا اور نا دیکھنے کو کہا، خادمہ بچاری مظلومیت کی چادر اوڑے ان کے سامنے بے بسی کی تصویر بن کر مالکن کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے اور اس میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے اس کی مالکن کی آنکھوں میں شدید غصہ اوراس کی سوچ میں فروعونیت تھی میں سوچتا رہا کے ایک مسلمان کے لیے زندگی کے تمام معاملات میں راہنماہی اللہ نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں رکھ دی ہیں تو پر کیوں کر ہم غافل ہیں۔ حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم نے تو یہ سارے قاعدے ختم کر دیے تھے جس میں انسان کی تذلیل ہو۔ تمام لوگوں کو بھائی چارے اخوت اور ایثار کا درس دیا۔ 
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھےکرّوبیاں
پیارے آقا حضرت محمد صلی علیہ والہ سلم کا فرمان عالی شان ہے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ اسلم کی آخری نصحیت بھی تھی۔ ایک نماز نہ چھوڑنا اور دوسرا اپنے ملازموں کے ساتھ اچھا سلوک رکھنا ۔
میں اپنے میز سے اٹھا اور اس مالکن کو کہا آنٹی آپ کو پیارے آقا صلی علیہ والیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ سناوں ،آنٹی نے حیرانی سے کہا جی بیٹا ضرور ۔مین نے کہا آنٹی رسول اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کے اپنے ملازموں کے ساتھ اچھا برتاو کرنا ۔ میں نے اس کو اپنا اخلاقی فرض سمجھا اور دوبارہ اپنے میزپرآ کر بیٹھ گیا۔ 
ہمارے معاشرے میں اب بھی بہت سے لوگ موجود ہیں جو اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ان کے پاس دولت ہے توسب کچھ ہے اور وہ اعلیٰ اور بہترین لوگ ہیں۔ اور جب ان لوگوں کے سامنے کوئی غریب آتا ہے تو ان کی اندر کی فرعونیت جاگ جاتی ہے جبکہ یہ دولت تو دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کا امتحان ہے ایسے لوگ جو اپنے سے کم درجے والے انسان کو حقیر سمجھے وہ انسان کہلانے کا حقدار نہیں۔ انسان کے پاس دولت کا ہونا بڑے دل کی ضمانت نہیں بلکہ بڑا دل تو وہ ہے جس میں تمام مخلوق کے لیے پیار ہو اور حقارت دور دور تک نہ ہو۔ عبدستارایدھی جیسے لوگ بڑے دل کی اعلی مثال ہیں ایدھی اپنے بچپن میں ملنے والے روزانہ کے دس روپے جیب خرچ میں سے پانچ روپے کا غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے ۔ ہماری بھی زمہ داری ہے اگر ہم ایدھی صاحب جیسا نہیں کر سکتے تو پھر اتنا تو کر سکتے ہیں کے جب بھی کھانا کھانے لگے تو اس ہوٹل کے آس پاس ایسے شخص کو ضرور تلاش کرے اور اپنے ساتھ کھانا کھلائے جو کسی مسیحا کی تلاش میں وہاں ہو 

No comments:

Post a Comment