
زندگی کے ان مشکل حلات میں جو لوگ اللہ پر توکل کیے اؑس کی نعمتوں کا تمام تر حالات میں شکر ادا کرتے ہوئے زندگی بڑی ہی خوش اسلوبی سے گزار دیتے ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں وہ لوگ معاشرے کے سامنے اطمینان والی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بڑا ہی تلخ ہے ایک۔ ایک شام میں آفس سے واپس گھرآ رہا تھا میرا گزر ایک گلی سے ہوا گلی کے کونے میں ایک خستہ حال گھر تھا ۔اس گھر میں بچے کے رونے کی آواز آرہی تھی جیسے کوئی بچہ اپنی ماں سے زد کر رہا ہو۔ میں نے بھی درد انسانی کے ناطے وہاں رک کر بچے کی آواز کو سننے کی کوشش کی پاس جا کر آواز واضع سنائی دی۔ بچہ اپنی ماں سے رو کر زد کر رہا تھا۔ کہ امی میں نے بھی بڑا ہو کر ڈاکڑ بننا ہے امی مجھے بھی سکول جانا ہے اور بہت سارا پڑھنا ہے اور اس کی ماں اس کو سمجھا رہی تھی کے بیٹا ایسا ممکن نہیں ہم بہت غریب ہیں ہماری تو اتنی آمدنی نہیں ہے جو میں تم کو پڑھا لکھا سکوں اور تمہارے سارے تعلیمی اخراجات پورے کر سکوں ۔ بیٹا آپ کی اور میری کمائی سے بڑی مشکل گھر کا گزر بسر ہوتا ہے اور اوپر سے گھر کا کرایہ بجلی گیس کا بل ان سب میں ہی سارے پیسے خرچ ہو جا تے ہیں بیٹا ہم غریب ہیں ہم تودو وقت کا کھانا بڑی مشکل سے کھاتے ہیں اس لیے یہ پڑھائی کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو۔ میں وہاں پر کھڑا شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا ۔ کہ کہاں ہیں وہ حکومتی ادارے کہاں ہیں وہ نام نہاد اینجیوزجو کہ انسانی حقوق کی علم بردار ہیں۔ کہاں ہے وہ حکومت کی طرف سے تعلیم کے نام پر مختص کیا گیا وہ بجٹ جو کے صرف کاغذوں اور فائلوں تک محدود ہے اس ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں دنیا اپنی نظریں مریخ پر جمائے ہوئے ہے۔ اور ایک طرف میرا ملک جہاں پر یہ حال ہے کہ غریب گھر کا بچہ جسے پڑھنے لکھنے کا شوق ہو اور وہ پڑھنے لکھنے کے قابل بھی ہو تو کیوں کر اس کو علم کے نور سے محروم رکھا جائے۔ میں بہت دیر تک وہاں یہ سوچتا رہا کہ ان بچوں کا کیا قصور جویہ تعلیم کے زیور سے محروم ہیں۔ ہماری تاریخ بہت روشن ہے۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہو کا دور حکومت سب کے لیے مثالی ہے تو اس کے باوجود مسلمانوں کے بچے ایسے کیوں ۔علامہ اقبال نے بھی اس قوم کو جگانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر یہ قوم ٹس سے مس نہیں تھے وہ آبا تمہارے مگر تم کیا ہو ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
میرے ملک کا ہربچہ ڈاکڑ اور انجنیر ہے میرے ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ ہر سطح پر میرے ملک میں قابل، اپنے اپنے شعبے کے کاریگر انسان موجود ہیں۔ لیکن وسائل کی کمی ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ہر آنے والی نئی حکومت اپنی طرف سے اقدام اٹھاتی ہے تعلیم پر خرچ کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔ مگر تعلیم پر پیسہ خرچ ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس گلی کے کونے میں رہنے والے بچے کوئی عام بچے نہیں بلکہ ان میں ہی مستقبل کا ڈاکرعبدالقدیر خان، ارفع کریم علی معین نوازش ڈاکڑ ثمر مبارک مند موجود ہوں۔ میں نے دروازہ پر دستک دی۔ ان کی والدہ نے دروازہ کھولا میں نے اس کو بتایا کہ میں نے آپ کا اپنے بچے کے ساتھ مکالمہ سن لیا۔ آپ کا بچہ ڈاکڑ ضروربنے گا میں نے اس بچے کو سکول میں داخل کروا دیا اس کی ماہانہ فیس کا انتظام بھی اللہ کی مدد سے کر دیا۔ لیکن یہ تو ایک بچہ تھا جس کی مدد للہ نے غیبی طریقے سے کردی پتا نہیں اور کتنے بچے ہیں جو اپنے اپنے گھروں میں یہ فریاد کر رہے ہوں گے اور ان کے والدین یا والدہ کسی مسیحا کے انتظار میں ہوں گے۔ کسی بھی ریاست کی زمہ داری ہے میں شامل ہے کہ وہ اپنی ریاست میں موجود اس طبقہ کے لیے اقدام کرے تاکہ وہ بچے بھی تعلیم حاصل کر سکے اور اپنی زندگی کا گزر بسر اچھے طریقے سے کر سکے ۔
No comments:
Post a Comment