Pages

Sunday, 15 August 2021

 پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور (اقبال)

قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللّہ علیہ کی روح آج اپنی قبر میں خون کے آنسوں رو رہی ہوگی۔۔ اور چیخ چیخ کر یہ سوال کر رہی ہوگی کہ کیا یہ ملک اس لیے حاصل کیا تھا اس کے نوجوان اپنی اخلاقی قدروں کو بھول جائیں۔ اور شاہین کی بجائے کرگس بننے میں خوشی محسوس کریں۔ جن کے پاس کوئی تہذیب کوئی کردار کوئی منزل نہیں ہے اس قوم کو تو مسلمانوں کی راہنمائی کے لیے چنا گیا تھا-
بقول اقبال
میر ارب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
وہی میرا وطن وہی میرا وطن ہے
لیکن افسوس ہے آج اقبال کے اس دیس میں تربیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے ۔۔ جس ملک میں اسلام جیسا دین رائج ہو اور جس دین کو دنیا کے تمام ادیان پر سبقت حاصل ہو۔۔۔ وہاں دین کے ٹھیکے دار خود کافر کافر کیھل کھیلنے میں مصروف عمل ہوں۔۔ وہ منبر جو صفا کے چبوترے کی روایات کا امین ہے آج پاکستان میں فرقہ ورانہ نفرت کو فروغ کا کام کر رہا ہے۔۔ درس گاہوں میں تعلیم کی تجارت باقی رہ گئی ہو اور تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول ہو۔ اور پھر دور جدید میں ڈیجیٹل میڈیا کو تعلیم و تربیت کا اہم سورس سمجھا جاتا ہے لیکن افسوس یہاں پر بھ ریٹنگ کے چکر میں قوم کو اسلامی اقدار کے برعکس تباہی و بربادی والی معاشرت کو مصالحہ لگا کر پیش کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ کون سنوارے گا ؟۔۔۔ کون تربیت کرے گا؟۔۔۔ یہ سوالات پچھلے ستر سالوں سے جواب کے منتظر ہے ہیں آخر میں اقبال کی نظم شکوہ جواب کے چند اشعار
تربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
تحریر
✍️
(محمد احمد درانی)