Pages

Sunday, 15 August 2021

 پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور (اقبال)

قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللّہ علیہ کی روح آج اپنی قبر میں خون کے آنسوں رو رہی ہوگی۔۔ اور چیخ چیخ کر یہ سوال کر رہی ہوگی کہ کیا یہ ملک اس لیے حاصل کیا تھا اس کے نوجوان اپنی اخلاقی قدروں کو بھول جائیں۔ اور شاہین کی بجائے کرگس بننے میں خوشی محسوس کریں۔ جن کے پاس کوئی تہذیب کوئی کردار کوئی منزل نہیں ہے اس قوم کو تو مسلمانوں کی راہنمائی کے لیے چنا گیا تھا-
بقول اقبال
میر ارب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
وہی میرا وطن وہی میرا وطن ہے
لیکن افسوس ہے آج اقبال کے اس دیس میں تربیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے ۔۔ جس ملک میں اسلام جیسا دین رائج ہو اور جس دین کو دنیا کے تمام ادیان پر سبقت حاصل ہو۔۔۔ وہاں دین کے ٹھیکے دار خود کافر کافر کیھل کھیلنے میں مصروف عمل ہوں۔۔ وہ منبر جو صفا کے چبوترے کی روایات کا امین ہے آج پاکستان میں فرقہ ورانہ نفرت کو فروغ کا کام کر رہا ہے۔۔ درس گاہوں میں تعلیم کی تجارت باقی رہ گئی ہو اور تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول ہو۔ اور پھر دور جدید میں ڈیجیٹل میڈیا کو تعلیم و تربیت کا اہم سورس سمجھا جاتا ہے لیکن افسوس یہاں پر بھ ریٹنگ کے چکر میں قوم کو اسلامی اقدار کے برعکس تباہی و بربادی والی معاشرت کو مصالحہ لگا کر پیش کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ کون سنوارے گا ؟۔۔۔ کون تربیت کرے گا؟۔۔۔ یہ سوالات پچھلے ستر سالوں سے جواب کے منتظر ہے ہیں آخر میں اقبال کی نظم شکوہ جواب کے چند اشعار
تربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
تحریر
✍️
(محمد احمد درانی)

Tuesday, 25 December 2018

ٹک ٹاک tik tok کے بارے میں ایسی حیران کن معلومات جو آپ نہیں جانتے


   



ٹک ٹوک بے حیائی پھیلانے والا مقبول ترین اپلکیشن ہے جو دنیا کے ۱۵۰ ممالک میں ۵۰۰ ملین اس ایپس کو استعمال کرتے ہیں، 
یہ اپلیکیشن کو بننے میں یہودیوں نے کافی وقت لگایا، چاینہ نے اس کو 2016 کے ستمبر مہینے میں لونچ کیا، دو سال میں ٹک ٹوک کو اتنی شہرت حاصل ہوئی جتنی ۵۰ سالوں میں فیس بک اور یوٹیوب کو شہرت حاصل نہیں ہوئی، دو سال میں ۵۰۰+ ملین اس کے یوزر ہیں، اور دنیا کے ۱۵۰ ممالک کے لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں، 
اس ایپش کو لونچ کرنے کا مقصد صرف اور صرف اسلام کو نشانا بنانا تھا، آپ اس ایپس پر دیکھیں گے کہ یہودی مذہب کے علاوہ سارے مذاہب کا مذاق بنایا ہوا ہے، آپ کو یہودی مذہب کے خلاف ایک ویڈیو بھی اس ایپس پر نہیں ملےگی، پھر لوگ اس بے حیائی کے سمندر میں غرق ہوتے جارہے ہیں، اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے مذہب کا مذاق بنا رہے ہیں، 
اس ایپس کو زیادہ تر قوم مسلم استعمال کر رہی ہے، اور قوم مسلم میں زیادہ تر ہماری خواتین استعمال کر رہی ہیں، 
مسلم خواتین میکپ لگاکر ایسے ایسے برہنہ کپڑے پہن کر سامنے آتی ہیں کہ اللہ کی پناہ، ساتھ میں دین ومذہب کا مذاق بناتے ہیں، 
یہودی چاہتے ہی ہیں کہ قوم مسلم کو ننگا برہنہ کیا جائے، اور تعلیم سے ہٹا کر انہیں گیم، تین پتی، لوڈو، فیس بک وہاٹسپ، اور بے حیائی والا ٹک ٹوک کے استعمال میں لگادیں، تاکہ وہ اپنا قیمتی وقت اس میں لگادیں، جب قوم مسلم تعلیم کے میدان میں خالی نظر آئیں گے،تو حکومت ہماری رہے گی، غلام ہمارے رہیں گے،
ان سارے فتنوں کو دیکھ کر رحمت والے نبی، امت کی بخشش کے لیے رورو کر رب کو منانے والے نبی نے ارشاد فرمایا تھا کہ "میں تمہارے گھروں میں فتنوں کی جگہیں اس طرح دیکھتا ہوں جیسے بارش گرنے کی جگہوں کو۔147
۱۴۰۰ سال پہلے ہمارے نبی نے ہونے والے سارے فتنوں کی پیشن گوئیاں فرمادیں، دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں
اعمال صالحہ میں جلدی کرو قبل اس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہو جائیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے اور ان فتنوں کا اثر ہوگا کہ آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کفر کی حالت میں اٹھے گا، نیز اپنے دین ومذہب کو دنیا کی تھوڑی سی متاع کے عوض بیچ ڈالے گا۔ (مسلم)
آج ہمارا بچہ بچہ نیٹ کے استعمال کو جانتا ہے، نیٹ کے استعمال سے جتنا فائدہ اٹھانا چاہیے اس سے کئی گنا انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں، آج ہماری مسلم خواتین گھر میں رہ کر وہ کام کرتی ہیں جو طوائف عورتیں بھی نہیں کرتیں، وہ بند کمرے وہ کام انجام دیتی ہیں جس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی مگر ہماری مسلم خواتین بند کمرے سے لائو آکر وہ کام انجام دیتی ہے جس کے حسن کو پوری دنیا دیکھتی ہے، اور دیکھ دیکھ کر نبی آخر الزماں کی وہ حدیث یاد کرتی ہے کہ 
دو گروہ ایسے ہیں جو اہل جہنم میں سے ہیں' لیکن میں نے ان کو نہیں دیکھا، ایک تووہ لوگ ہوں گے جن کے پاس گائے کی دُموں جیسے کوڑے ہوں گے جن کے ساتھ یہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری وہ عورتیں ہوں گی جو کپڑے پہن کر بھی ننگی ہوں گی (یعنی یا تو باریک لباس پہنا ہو گا جس کی وجہ سے جسم نظر آ رہا ہو گا یا پھر ایسا لباس پہنا ہو گا کہ جس نے اُن کے جسم کا کچھ حصہ ڈھانپا ہو گا اور کچھ حصہ ننگا ہو گا) 'مَردوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود مَردوں کی طرف مائل ہونے والی ہوں گی۔ اُن کے سر ایسے ہوں گے جیسے کہ خراسانی نسل کے اونٹ کے کوہان ہوں ( سر کے بالوں کے نت نئے فیشن اور سٹائلز کی طرف اشارہ ہے)۔یہ عورتیں نہ تو جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبوپا سکیں گی' حالانکہ جنت کی خوشبو اتنے اتنے فاصلے سے محسوس ہو گی''۔
بنت حوا ننگا ناچ رہی ہے، ابن آدم اپنی حوس بجھانے کے لیے چسکیاں لے لے کر دیکھ رہا ہے
نہ شرم نبی نہ خوف خدا
یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
اسلام نے عورت کو ایک پاکیزہ نظام دیا ہے جس میں اس کی بھلائیاں چھوپی ہوئی ہیں،
اسلام نے عورت کی حفاظت کی خاطر مسجد میں جانے سے روک دیا، اذان و اقامت سے روک دیا، حج کے دوران اونچی آواز میں تلبیہ کہنے سے روک دیا، اونچی آواز میں قرآن پڑھنے سے روک دیا، اونچی آواز سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت پڑھنے سے روک دیا ہو، اسی مذہب کی نوجوان لڑکیاں ٹک ٹوک پر ناچ رہی ہو تو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی ہمارے رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو
ٹک ٹوک کی بیماری میں صرف لڑکیاں ہی نہیں، بلکہ اس کے بچے بچے دیوانے ہیں اور لڑکیوں کے ساتھ میں اپنا وڈیو ساتھ بناکر لوگوں میں شیئر کرتے ہیں اور اس گناہ کے کام میں لذت محسوس کرتے ہیں، 
اس کام میں صرف بچے نہیں بلکہ ان لوگوں کے بھی چہرے سامنے آئیں جو والدین ہیں،بڑھے ہیں دین کے جاننے والے ہیں اس بدفعلی میں برابر نظر آئے، 
جب ہمارے رہنما ہی ایسے کاموں میں لگ جائیں تو سمجھ لینا قوم تنزلی کا شکار ہو چکی ہے،رہنماؤں کو تو چاہیے اس بے حیائی والے ایپلیکشن کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے تھا، جمعہ کے خطابات میں اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے تھی، مگر اب تو ڈاکٹر ہی بیمار ہونے لگے ہیں تو قوم مسلم کا علاج کیسے کریں گے، 
اگر اب بھی نہ سنبھلیں تو وہ دن دور نہیں جب ہماری بچیاں ٹک ٹوک پر بغیر کپڑے کے برہنہ ناچ دیکھائیں، اور اس بات پر یہود جشن منائیں، ہماری غیرت کو کیا ہو گیا، کس حد تک ہم بے شرم ہوگیے، کہ ہم نے اپنی بچیوں کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا جس سے وہ اپنی خواہشات بند کمرے میں مٹا رہی ہیں،
ابھی بچے بالغ نہیں ہوتے مگر وہ سیکس کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، مشت زنی کرکے بالغ ہوتے ہیں، اغلام بازی کرتے ہیں، کتوں بکریوں ور جانوروں کے ساتھ اپنی پیاسیں بجھاتے ہوئے نظر آتے ہیں، آپ روزانہ اخبارات کا جائزہ لیں تو پتہ چلےگا، کہ ہمارے معاشرے میں ہو کیا رہا ہے، اور کیوں ہو رہا ہے، خدارا اپنے بچیوں پر رحم کریں، اور جہنم کی آگ سے بچائیں
اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں،
ہماری قوم کو ہمارے نبی کی سیرت پسند نہیں، ہماری قوم کی بچیوں کو پردہ پسند نہیں، ہمارے مسلم لڑکوں کو چہرے پر داڑھی رکھنا پسند نہیں، ہاں اگر پسند ہے تو یہودی اسٹائل میں رکھے جانے والے بال پسند ہے، یہودی لوگ اگر اپنے چہرے پر داڑھی کو فیشن بناکر رکھتے ہیں تو ہمارا جوان اسی کی طرح اپنے چہرے پر داڑھی رکھتا ہے، جیسے وہ کپڑے پہنتا ہے ہمارا جوان ان کی اسٹائل والا لباس پہنتا ہے، ہماری بچیوں کو نقاب پسند نہیں، وہ نقاب و پردے کو دقیانوسی خیال کرتے ہیں وہ اگر کوئی یہودی لڑکی تنگ و چست لباس پہنتی ہے تو ہماری بچیاں اس کی طرح کا لباس خرید کر پہنتی ہے، مردوں کی طرح بال کٹواتی ہے، مردوں کے لباس پہنتی ہیں،، یہاں تک کے اگر یہودی لڑکیاں چڈی بنیان پہنتی ہیں تو ہماری بچیاں بھی اپنا جسم کھول کر لوگوں کو دیکھاتی ہوئی نظر آتی ہیں، جس منہ سے ہم کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، ہم کون سا کام اسلام والا کرتے ہیں، ہم کس منہ سے کہیں ہم کنیز فاطمہ ہیں، غلام مصطفی و غلام حسین ہیں، ہم خود ذلت و رسوائی والے کام کر رہے ہیں، یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں جو وجود میں آرہی ہیں، جو بچ گیا وہ امن پاگیا.. اپنے گھر والوں کی حفاظت کیجیے، اور سیرت مصطفی پر چلنے کا عادی بنا دیجیے، ان شاء اللہ وہ کبھی نہیں بھٹکےگا...

Monday, 24 December 2018

نواز شریف کا اصل جنم دن 25 دسمبر نہیں بلکہ کوئی اور دن ہے ۔ نواز شریف جب بھی اپنے ستارے کا حال معلوم کرنے کے لیے کسی نجومی سے

نواز شریف کا اصل جنم دن 25 دسمبر نہیں بلکہ کوئی اور دن ہے ۔ نواز شریف جب بھی اپنے ستارے کا حال معلوم کرنے کے لیے کسی نجومی سے رابطہ کرتے ہیں تو اس کو اپنا 25 دسمبر کی بجائے کوئی اور دن بتاتے ہیں جو کہ ان کا اصل دن ہے۔ چونکہ نواز شریف نہایت ہی رنگیلے قسم کے انسان ہیں زندگی میں ان کو بہت سے کام جو کہ بادشاہوں والے ہیں مثلا مہنگی اشیا کا استعمال وہ بھی اپنی زات کے لیے اس لیے۔ عوامی عہدے کے حوس میں اپنے جنم دن کو بانی پاکستان کے یوم پیدائش کے ساتھ ملا دیا ۔ یہ ان کی پاکستان کے ساتھ محبت نہیں بلکہ عوام کے دلوں جھوٹی محبت حاصل کرنے کا ایک احمقانہ کھیل ہے

Sunday, 18 November 2018

یوٹرن کیوں ضروی ہے تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی سے مسلمہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ کہ یوٹرن کامیاب لوگوں کاخاصہ ہے


یوٹرن کیوں ضروی ہے 
تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی سے مسلمہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ کہ یوٹرن کامیاب لوگوں کاخاصہ ہے۔ زندگی ایک جہد مسلسل کا نام ہے جس میں کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں مدنظررکھی جاتی ہیں۔ زندگی کی راہوں میں ہرلحمہ دوراہوں سے واسطہ پڑتا ہے اور انسان کو ہر دوراہ ے پر فوری فیصلہ کرکے صحیح راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ بازاوقات بشری تقاضوں کے تحت انسان فیصلے میں غلطی کر بیٹھتا ہے پر رحمانی یا تائیدایژی کے باعث احساس ہو جاتا ہے کہ فیصلہ غلط تھا اور پھر یوٹرن لے کر درست سمت چلا جاتا ہے۔ اگر یوٹرن کو غلط یا معنے سمجھ لیا جائے تو بندا کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا غلط فیصلے اسے دور تک منزل سے بھٹکا دے گے۔ چند مثالیں تاریخ سے کارئین کے لیے حاضر خدمت ہیں۔ خلاق کائنات نے آدم علیہ سلام کی پسندیدہ صفت توبہ قرار دی ہے۔ بقول اقبال
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے تھے جو میرے عرق انفعال کے
انفعال حقیقت میں ندامت ہے اور ندامت یوٹرن کی عمدہ مثال ہے۔ آدم علیہ سلام سے لے کے ختم المرسلین صلی علیہ والہ وسلم تک جن انبیا کے قصے قرآن میں ہیں اکژ مقامات پر یوٹرن کی مثالیں ملتی ہیں۔ اللہ تعالی نے بندے کے لیے توبہ کا موقع یوٹرن ہی رکھا ہے اور اسے اتنا پسندیدہ کہا کہ توبہ سے گناہ گارہوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیا جاتا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنو کے اسلام لانے کا واقعہ یوٹرن کی عمدہ مثال ہے۔ میدان کربلا میں جناب حر رضی اللہ عنو کا کردار بھی ایک عمدہ یوٹرن ہے جو آج بھی پوری کائنات کو دعوت دیتا ہے کہ بندہ اگر جناب حانی نا بنے تو کم ازکم حر کی طرح یوٹرن ضرور لے قآن کا حکم ہے قون مع الا صادقین یعنی سچوں کے ساتھ شامل ہو جاو۔ یوٹرن سچ کی دعوت ہے۔ زندگی کی ہر دو رویہ سڑک پر کئی جگہ پر یوٹرن انہی کی درستگی کے لیے بناےجاتے ہیں۔ بابر نے ایک مرتبہ شکست کھانے کے بعد فوری طور پر توبہ کی اور اس توبہ کے ثبوت کے لیے شراب کے مٹکے توڑ دیے۔ دیوار برلن جو سالوں تک جرمنی میں گوروں اور کالوں کی علیحدگی کے فلسفے کے تحت بنی لیکن خام فلسفہ دانوں نے تھوڑے سالوں میں گٹنے ٹھیک دیےاور یوٹرن لیتے ہوے دیوار برلن گراہ دی گئی۔ کا نگرس کے سب سے سرگرم کارکن اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح یوٹرن لے کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیارنہ کرتے اور ایک آزاد اور خود مختیار اسلامی ریاست کا مطالبہ نہ کرتے توآج ہم شاید آزاد نہ ہوتے۔ کوئی بھی تھیوری اور نظریہ اس وقت تک عروج پر ہوتا ہے جب تک اس کو غلط ثابت کرکے نئی تھیوری نہیں آتی اور اگر نیا نظریہ آجائے تو تمام پیروں کاروں کو یوٹرن لینا پڑتا ہے 
موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ایک نئے سیاست دان ہیں۔ سارے تجربے نئے ہیں کسے بھی مفروضے یا نظریے کو حتمی نہیں کیا جا سکتا۔ قوم اور وطن کی بہتری کے لیے ہر غلط فیصلے پر یوٹرن ضروری ہے حضرت علی رضی اللہ عنو کا قول مبارک ہے۔ بہت سی جلد بازیاں تاکیروں کا باعث بنتی ہیں۔ عمران خان کی مجبوری ہے کہ موجودہ بحران میں فیصلہ لینا پڑتا ہے۔ اور جلدی کے فیصلے یوٹرن کے متقاضی ہیں

Wednesday, 14 November 2018

وہ فیملی امیر لگ رہی تھی لیکن ان کے دل غریب تھے احساس سے خالی تھے۔ اس فیملی کے ساتھ ان کی ایک خادمہ بھی بیٹھی تھی جو صرف ان کا سامان اپنے ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی اور ان کو کھاتے ہوے دیکھ رہی تھی


اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس میں وہ تمام تر خوبیاں رکھ دی جو کے باقی جانداروں میں نہیں  ہیں حضرت آدم علیہ سلام کی تخلیق اللہ نے ایک خاص مقصد کے لیے کی ۔ تخلیق کے بعد زمیں پر بھیج دیا اور صحیح ور غلط کا فرق بتا دیا۔ یہ تو بات تھی انسان کے تخلیق اور اس کے متعلق لیکن انسان کا وہ روپ بڑا ہی بھیانک ہے جس میں وہ انسانیت کی ساری حدود کو پار کر کے اپنا شمار ظاہری طور پر حیوانوں میں کرواتا  ہے ۔ ایک واقعہ جس کی وجہ سے اس مخلوق پر سوال اٹھتا ہے، جس کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا گیا ہے ۔ ایک روز کالج سے کلاس پڑھنے کے بعد دوستوں کے ساتھ ایک ہوٹل پر گیا ہم کل پانچ دوست تھے پانچوں دوست ایک میز کے گرد لگی کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد ویڑر ہمارے پاس آیا ہم نے اسے بریانی کا آڈر دیا ۔ بریانی بھی آگئی ہم سب کھانے میں مشغول ہو گئے اچانک میری نظر ایک میز پر پڑی جوکے میرے میز کے سامنے تھا ۔ اس میز پر ایک فیملی بیٹھی ہوئی تھی بظاہر تو وہ فیملی امیر لگ رہئی تھی لیکن ان کے دل غریب تھے احساس سے خالی تھے۔ اس فیملی کے ساتھ ان کی ایک خادمہ بھی بیٹھی تھی جو صرف ان کا سامان اپنے ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی اور ان کو کھاتے ہوے دیکھ رہی تھی۔ میں ان کی طرف دیکھتا رہا مجھے اپنا کھانا بھول گیا اور میری توجہ بھی اس فیملی پر اور ان کی خادمہ کی طرف تھی۔ اچانک مالکن نے دیکھا کے ملازمہ ان کو کھاتے ہوئے دیکھ رہی ہے تو مالکن نے ڈانٹ دیا اور نا دیکھنے کو کہا، خادمہ بچاری مظلومیت کی چادر اوڑے ان کے سامنے بے بسی کی تصویر بن کر مالکن کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے اور اس میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے اس کی مالکن کی آنکھوں میں شدید غصہ اوراس کی سوچ میں فروعونیت تھی میں سوچتا رہا کے ایک مسلمان کے لیے زندگی کے تمام معاملات میں راہنماہی اللہ نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں رکھ دی ہیں تو پر کیوں کر ہم غافل ہیں۔ حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم نے تو یہ سارے قاعدے ختم کر دیے تھے جس میں انسان کی تذلیل ہو۔ تمام لوگوں کو بھائی چارے اخوت اور ایثار کا درس دیا۔ 
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھےکرّوبیاں
پیارے آقا حضرت محمد صلی علیہ والہ سلم کا فرمان عالی شان ہے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ اسلم کی آخری نصحیت بھی تھی۔ ایک نماز نہ چھوڑنا اور دوسرا اپنے ملازموں کے ساتھ اچھا سلوک رکھنا ۔
میں اپنے میز سے اٹھا اور اس مالکن کو کہا آنٹی آپ کو پیارے آقا صلی علیہ والیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ سناوں ،آنٹی نے حیرانی سے کہا جی بیٹا ضرور ۔مین نے کہا آنٹی رسول اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کے اپنے ملازموں کے ساتھ اچھا برتاو کرنا ۔ میں نے اس کو اپنا اخلاقی فرض سمجھا اور دوبارہ اپنے میزپرآ کر بیٹھ گیا۔ 
ہمارے معاشرے میں اب بھی بہت سے لوگ موجود ہیں جو اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ان کے پاس دولت ہے توسب کچھ ہے اور وہ اعلیٰ اور بہترین لوگ ہیں۔ اور جب ان لوگوں کے سامنے کوئی غریب آتا ہے تو ان کی اندر کی فرعونیت جاگ جاتی ہے جبکہ یہ دولت تو دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کا امتحان ہے ایسے لوگ جو اپنے سے کم درجے والے انسان کو حقیر سمجھے وہ انسان کہلانے کا حقدار نہیں۔ انسان کے پاس دولت کا ہونا بڑے دل کی ضمانت نہیں بلکہ بڑا دل تو وہ ہے جس میں تمام مخلوق کے لیے پیار ہو اور حقارت دور دور تک نہ ہو۔ عبدستارایدھی جیسے لوگ بڑے دل کی اعلی مثال ہیں ایدھی اپنے بچپن میں ملنے والے روزانہ کے دس روپے جیب خرچ میں سے پانچ روپے کا غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے ۔ ہماری بھی زمہ داری ہے اگر ہم ایدھی صاحب جیسا نہیں کر سکتے تو پھر اتنا تو کر سکتے ہیں کے جب بھی کھانا کھانے لگے تو اس ہوٹل کے آس پاس ایسے شخص کو ضرور تلاش کرے اور اپنے ساتھ کھانا کھلائے جو کسی مسیحا کی تلاش میں وہاں ہو 

Sunday, 11 November 2018

امی مجھے بھی ڈاکڑبننا ہے

زندگی کے ان مشکل حلات میں جو لوگ اللہ پر توکل کیے اؑس کی نعمتوں کا تمام تر حالات میں شکر ادا کرتے ہوئے زندگی بڑی ہی خوش اسلوبی سے گزار دیتے ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں وہ لوگ معاشرے کے سامنے اطمینان والی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بڑا ہی تلخ ہے ایک۔ ایک شام میں آفس سے واپس گھرآ رہا تھا میرا گزر ایک گلی سے ہوا گلی کے کونے میں ایک خستہ حال گھر تھا ۔اس گھر میں بچے کے رونے کی آواز آرہی تھی جیسے کوئی بچہ اپنی ماں سے زد کر رہا ہو۔ میں نے بھی درد انسانی کے ناطے وہاں رک کر بچے کی آواز کو سننے کی کوشش کی پاس جا کر آواز واضع سنائی دی۔ بچہ اپنی ماں سے رو کر زد کر رہا تھا۔ کہ امی میں نے بھی بڑا ہو کر ڈاکڑ بننا ہے امی مجھے بھی سکول جانا ہے اور بہت سارا پڑھنا ہے اور اس کی ماں اس کو سمجھا رہی تھی کے بیٹا ایسا ممکن نہیں ہم بہت غریب ہیں ہماری تو اتنی آمدنی نہیں ہے جو میں تم کو پڑھا لکھا سکوں اور تمہارے سارے تعلیمی اخراجات پورے کر سکوں ۔ بیٹا آپ کی اور میری کمائی سے بڑی مشکل گھر کا گزر بسر ہوتا ہے اور اوپر سے گھر کا کرایہ بجلی گیس کا بل ان سب میں ہی سارے پیسے خرچ ہو جا تے ہیں بیٹا ہم غریب ہیں ہم تودو وقت کا کھانا بڑی مشکل سے کھاتے ہیں اس لیے یہ پڑھائی کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو۔ میں وہاں پر کھڑا شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا ۔ کہ کہاں ہیں وہ حکومتی ادارے کہاں ہیں وہ نام نہاد اینجیوزجو کہ انسانی حقوق کی علم بردار ہیں۔ کہاں ہے وہ حکومت کی طرف سے تعلیم کے نام پر مختص کیا گیا وہ بجٹ جو کے صرف کاغذوں اور فائلوں تک محدود ہے اس ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں دنیا اپنی نظریں مریخ پر جمائے ہوئے ہے۔ اور ایک طرف میرا ملک جہاں پر یہ حال ہے کہ غریب گھر کا بچہ جسے پڑھنے لکھنے کا شوق ہو اور وہ پڑھنے لکھنے کے قابل بھی ہو تو کیوں کر اس کو علم کے نور سے محروم رکھا جائے۔ میں بہت دیر تک وہاں یہ سوچتا رہا کہ ان بچوں کا کیا قصور جویہ تعلیم کے زیور سے محروم ہیں۔ ہماری تاریخ بہت روشن ہے۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہو کا دور حکومت سب کے لیے مثالی ہے تو اس کے باوجود مسلمانوں کے بچے ایسے کیوں ۔علامہ اقبال نے بھی اس قوم کو جگانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر یہ قوم ٹس سے مس نہیں 
تھے وہ آبا تمہارے مگر تم کیا ہو 
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

میرے ملک کا ہربچہ ڈاکڑ اور انجنیر ہے میرے ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ ہر سطح پر میرے ملک میں قابل، اپنے اپنے شعبے کے کاریگر انسان موجود ہیں۔ لیکن وسائل کی کمی ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ہر آنے والی نئی حکومت اپنی طرف سے اقدام اٹھاتی ہے تعلیم پر خرچ کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔ مگر تعلیم پر پیسہ خرچ ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس گلی کے کونے میں رہنے والے بچے کوئی عام بچے نہیں بلکہ ان میں ہی مستقبل کا ڈاکرعبدالقدیر خان، ارفع کریم علی معین نوازش ڈاکڑ ثمر مبارک مند موجود ہوں۔ میں نے دروازہ پر دستک دی۔ ان کی والدہ نے دروازہ کھولا میں نے اس کو بتایا کہ میں نے آپ کا اپنے بچے کے ساتھ مکالمہ سن لیا۔ آپ کا بچہ ڈاکڑ ضروربنے گا میں نے اس بچے کو سکول میں داخل کروا دیا اس کی ماہانہ فیس کا انتظام بھی اللہ کی مدد سے کر دیا۔ لیکن یہ تو ایک بچہ تھا جس کی مدد للہ نے غیبی طریقے سے کردی پتا نہیں اور کتنے بچے ہیں جو اپنے اپنے گھروں میں یہ فریاد کر رہے ہوں گے اور ان کے والدین یا والدہ کسی مسیحا کے انتظار میں ہوں گے۔ کسی بھی ریاست کی زمہ داری ہے میں شامل ہے کہ وہ اپنی ریاست میں موجود اس طبقہ کے لیے اقدام کرے تاکہ وہ بچے بھی تعلیم حاصل کر سکے اور اپنی زندگی کا گزر بسر اچھے طریقے سے کر سکے ۔

Saturday, 10 November 2018

فلاحی ریاست کی طرف ایک اور قدم - وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں سڑکوں پر کھلے آسمان تلے سونے والے غریب اور نادار بے گھر لوگوں کیلئے شیلٹر ہوم "پناہ گاہ" کا سنگِ بنیاد رکھ دیا.


 بے گھر افراد کے لیے گھر بنانے کا وعدہ پورا کر دیا جناب وزیراعظم خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویڑ پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے
کے آج میں نے لاہور میں بے گھر پناہ گزینوں کی پہلی رکنیت رکھی اوردوسرے طرف پنڈی میں ایک میں پناہ گزینوں کے لۓ رکھا ہے. ہم اپنے غریب شہریوں کے لئے ایک سماجی نیٹ کی تعمیر کرنے جا رہے ہیں اور ہم اس کے لئے پرعزم ہیں لہذا ہر کسی کو اس کو صحت اور تعلیم کے سربراہ تک رسائی حاصل ہے