Pages

Sunday, 7 October 2018


؛؛؛ لفظ حلیم پر تحقیق ؛؛؛



کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ؛؛ حلیم ڈش ؛؛ کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم" اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور حلیم بنانا

کے افعال کے ساتھ اس لفظ کا استعمال گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔

امید ہےکہ وہ اپنے مقدمات کے لئے "وکیل" تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انسان کو وکیل کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اور یا پھر وہ وہ وکیلوں کے بارے میں مشہور ترین شعر سے بھی اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔"حکیم" سے دوا بھی نہیں لیتے ہوں گے کہ انسان حکیم کیسے ہو سکتا ہے؟

نہ تو ان کے بچے مدرسوں میں "اوّل" آتے ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس "آخر" میں کچھ "باقی" رہ جاتا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام بھی اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مرنے کے بعد ان کا کوئی" ولی" بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ انسان ولی کے درجے پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ یہ متقیان یقیناً مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو بھی "قابض" نہیں کہتے ہوں گے۔ 'ساڈی "باری" آن دیو' کا نعرہ بھی انہیں کفّار کی سازش لگتا ہوگا۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر "لطیفہ" کہنا بھی بے ادبی کے زمرے میں آنے لگے گا اور "ملِک" صاحب کہنا تو پھر سیدھا سیدھا کفر ہی ٹھہرےگا۔

لفظ " مصوّر" کے لئے تو پھر فتویٰ لینے کے بھی ضرورت نہیں ہے۔ کسی صحابی، ولی اللہ یا بادشاہ کو "جلیل" القدر کہنا شرک ٹھہرے گا اور "شہید" کا استعمال انسانوں کے لئے متروک قرار پائے گا۔ کسی کو " عظیم" کہنے پر پابندی ہوگی اور "مقتدر" قوتیں کہنے پر تعزیر جاری کی جائے گی۔ کوئی انسا کسی کا " والی" " وارث" نہیں کہلائےگا کیوں کہ یہ دونوں بھی اسمائے الہٰی ہیں۔ "ظاہر" و " باطن" بھی انسانوں کے لئے ممنوع قرار پائیں گے۔ کوئی عمل یا کاروبار " نافع" ہوگا اور نہ کوئی مسجد یا کتاب "جامع" کہلائے گی۔ بیشتر اردو شاعری کو دریا بُرد کرنا پڑے گا کیونکہ ناہنجار شاعروں نے "رقیب" کی دل کھول کر برائیاں کی ہیں جو کہ اس نئے اسلامی نظام کے بالکل خلاف ہے۔ اسی ہی طرح نہ تو کوئی کام "مؤخر" کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی کی برائی کرتے ہوئے اسے "منتقم" مزاج کہنے کی اجازت ہو گی۔

یہاں پر ایک سنگین مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت پڑے گی کہ صدیوں سے علمائے اسلام حضرت عثمان کو " غنی" لکھ رہے ہیں۔ اب ان کی تمام کتابوں کو کس طرح سے درست کیا جاسکتا ہے۔ اور اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آقائے دوجہاں، نبی آخر الزّماں نے تمام عمر اپنے عزیز ترین صحابی، عم زاد اور داماد کو "علی" کے نام سے پکارا اور یہ عمل نہ تو ربِّ کائنات کی بے ادبی کا باعث بن اور نہ ہی موجبِ شرک ٹھہرا۔ اب یہاں اس نئے فہمِ اسلام کو کیسے نافذ کیا جائے گا؟؟

ایسی باتیں کرنا جن سے عوام کے دل پراگنده اور خیالات منتشر هوں انتہائی غیر مناسب ہیں جیسا که یہی حلیم والی بات

عوام کے وہم و گمان میں بهی نہیں هو گا که الله تعالی کی بے ادبی کرتے ہیں، پهر خواه مخواه ایسی بات پهیلا کر انہیں پریشان کرنا دین کی خدمت نہیں بلکه عوام کی پریشانی هے

1:"آپ بخوبی جانتے ہیں که الله کے بہت سے صفاتی نام ہیں کچھ خاص ہیں جو اس کے سوا کسی پر نہیں بولے جا سکتے اور باقی مخلوق پر بهی بولے جاتے ہیں جیسے عظیم، کریم، رؤوف وغیره جیسے یه مخلوق پر بولنے سے کوئی بے ادبی نہیں هوتی ایسے هی حلیم بولنے سے بهی قطعا کوئی بے ادبی لازم نہیں آتی، بے ادبی لازم آنا تو دور کی بات هے بے ادبی کا شائبه بهی نہیں هوتا

2:"اگر کهانے کی ڈش کو حلیم کہنے سے بے ادبی کا شائبه پیدا هوتا هے تو حلیم کی تانیث ذکر کرنے سے بدرجه اولی هو گا کیونکه الله تعالی تذکیر و تانیث سے پاک هے حالانکه هم جانتے ہیں که ایسا بالکل نہیں بلکه اس کی تانیث خود حضور اقدس کے زمانے میں بولی جاتی تهی اور حضور علیه الصلوة والسلام نے اس سے منع نہیں فرمایا جیسا که آپ کی رضاعی والده کا اسم گرامی حلیمه سعدیه هے جب که حلیمه حلیم کی هی تانیث هے

3:"الله کے نیک بندوں کو بهی کی ان کی برد بار طبیعت کی وجه سے حلیم الطبع کہا جاتا هے

پته چلا که حلیم مخلوق پر بهی بولا جا سکتا هے اور کهانے کی ڈش بهی مخلوق هی هے لہذا اس پر بهی بول سکتے ہیں.

خواه مخواه اپنی انفرادی علمیت جتانے کے لیۓ دلوں کو پراگنده کرنے اور خیالات کو منتشر کرنے والی غیر مناسب باتیں کرنا علما کا منصب نہیں

Monday, 1 October 2018

ماؤں کے لئے! بچوں کی اچھی عادات کے فوائد



                                                                                                   !  ماؤں کے لئے
                                                                                       بچوں کی اچھی عادات کے فوائد

دیکھئے ! بچوں کی عادتیں ہم خود بگاڑتے ہیں اور جب وہ بگڑی عادتیں ان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہیں تو پھر ہم ان کی اصلاح شروع کر دیتے ہیں۔ بہتر نہیں کہ شروع سے ہی بہتر عادتیں ڈالی جائیں ؟ مثلا آپ یہی دیکھ لیجئے کہ شیر خوار بچے کو ہم غیر ضروری طور پر گود میں اٹھانے لگتے ہیں۔ اب بچہ تو اس عمر میں بھی اس عمر کے تقاضے جتنی ذہانت رکھتا ہے۔ چنانچہ بہت جلد وہ یہ جان جاتا ہے کہ گود سے بڑی کوئی عیاشی نہیں۔ یوں وہ بار بار اس عیاشی یعنی گود کے لئے رونا شروع کردیتا ہے اور اسے ہر وقت گود میں اٹھائے رکھنا آپ کے بس میں نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہوتا پھر یہ ہے کہ آپ اس کا یہ تقاضا پورا نہیں کرپاتے اور وہ رور رو کر انتہائی کم عمری میں نفسیاتی مسائل سے دوچار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ عمر تھوڑی مزید بڑھتی ہے اور وہ چلنا شروع کر دیتا ہے تو آپ اسے بار بار گھر کے باہر پورچ یا گلی تک لے جانے لگتے ہیں۔ یہ کام بھی آپ اس کثرت سے کرتے ہیں کہ وہ فورا سمجھ جاتا ہے کہ اصل عیاشی تو "کھلی فضاء" ہے اب وہ یہ تو نہیں جانتا کہ کھلی فضاء ہر وقت کی عیاشی نہیں چنانچہ وہ اس کے لئے رونا دھونا شروع کردیتا ہے اور چونکہ اسے ہر وقت باہر گھمانا آپ کے بس میں نہیں ہوتا تو اس کا مقدر آنسوؤں کےسوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ رونا اسے مزید نفسیاتی مسائل میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہم نے صلاح الدین سے لے کر وقاص تک کسی کو بھی اس طرح کی لامحدود عیاشیاں نہیں کرائیں۔ گود میں انہیں اتنا ہی اٹھایا جتنے سے انہیں عادت نہیں پڑی۔ باہر بھی انہیں اتنا ہی لے کر گئے جتنا لے جانے سے انہیں عادت نہیں پڑی۔ یہ تو ہوئی بہت ہی چھوٹی عمر کے بچوں کی بات۔ اب ذرا عاقل بالغ بچوں کی جانب آجائے !

ہمارے تینوں بیٹوں کو ہم نے شروع سے ہی اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈال دی تھی۔ چنانچہ اسی کا نتیجہ ہے کہ چھ سال کی عمر کے بعد ان کی ماں نے کبھی ان کے سکول شو پالش نہیں کئے اور بارہ سال کی عمر کے بعد ان میں سے کسی کے بھی کپڑے ماں نے استری نہیں کئے۔ اپنے سارے کام خود کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ آج یہ تک کسی کو نہیں کہتے 

"یار پانی پلانا !"

وہ اپنا پانی خود اٹھ کر پیتے ہیں۔ کھانا ان کے آگے ماں لاکر رکھتی ہے لیکن برتن یہ بچے خود سنبھالتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ دیکھئے ! صلاح الدین کی شادی ہوگئی تو ظاہر ہے گھر میں بہو آگئی۔ اب بہو بیچاری تو گویا ہوتی ہی ہر گھر کی "چیف ماسی" ہے۔ گھر کا سارا کام کاج اسی کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ ہر ایک اسی کو حکم جاری کرتا ہے۔ لیکن ہمارے گھر میں حرام ہے جو طارق یا وقاص اپنی بھابی کو کسی کام کا کہتے ہوں۔ کیوں ؟ کیونکہ انہیں بچپن ہی سے اپنے کام خود کرنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ مجھے بس ایک ہی بار از راہ احتیاط یہ ہدایت نامہ جاری کرنا پڑا

"اپنے کام اب بھی خود ہی کرنے ہیں !"

خدا گواہ ہے کہ میرے دونوں بیٹوں نے اس کا رتی برابر بھی برا نہیں منایا اور ان کی بھابی چونکہ ان کی کزن بھی ہیں جنہیں وہ بچپن سے جانتے ہیں تو زبردست قسم کا دوستانہ ماحول قائم ہے۔ اب اگر آپ غور کیجئے تو بچپن میں ڈالی گئی اچھی عادتوں کا بڑی عمر میں جا کر کتنا زبردست فائدہ ہوتا ہے ؟ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میری بہو میرے گھر کی "ماسی" نہیں بہو ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ خواتین گھر پر تو اچھے کپڑے پہنتی نہیں، باہر جاتی ہیں تو تیار ہونے لگتی ہیں۔ بھئی وہ گھر میں اچھے کپڑے کیسے پہنے ؟ ہر دو منٹ بعد آپ کے گھر کا کوئی نواب اسے کچن میں آگ، تیل اور مسالوں میں جھونک دیتا ہے تو وہ وہاں نئے اور اچھے کپڑے کیسے برباد کرے ؟ کیا وہ کچن کے پسینے میں بہانے کے لئے میک اَپ کر سکتی ہے ؟ پہلے اپنے گھر کا نظام متوازن کیجئے اور پھر دیکھئے کہ وہ گھر میں بھی تیار ہوتی ہے کہ نہیں ؟ تیار ہونا یعنی سجنا سنورنا عورت کا شوق بھی ہے اور ذوق بھی۔ اس شوق اور ذوق کی تکمیل کے لئے اسے مناسب موقع تو دیجئے !
آخری گزارش یہ کہ ہماری بہو بھی تو ہماری بچی ہے۔ سو اسے بھی اس نئی زندگی کی چند چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ماں بننے کے بعد جو اہم ترین چیز اس بچی کو میں نے سکھائی ہے وہ یہ ہے کہ گھر پر بچے کو ڈائپر میں رکھنے والی ماں "نالائق اور نکمی ماں" ہوتی ہے۔ ڈائپر بچے کو تب پہنایا جائے جب آپ اسے گھر کے باہر لے جا رہے ہوں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا کہ وہ روز کئی گھنٹے تک اپنا پاخانہ اور پیشاب اٹھائے پھرے ؟ خدا گواہ ہے، میں جب کسی کے گھر جاتا ہوں اور وہ اپنا کوئی چھوٹا سا بچہ میری گود میں لا ڈالتے ہیں اور اس بچے نے ڈائپر پہن رکھا ہو تو مجھے یہی لگتا ہے کہ میری گود میں پانچ کلو بچہ، سوا کلو پاخانہ اور ڈیڑھ لیٹر پیشاب لاکر ڈالدیا گیا ہے۔ چنانچہ مجھے اس بچے سے باقاعدہ کراہت ہونے لگتی ہے اور میں جلدی سے اس سے جان چھڑا لیتا ہوں۔ اللہ کا واسطہ ! گھروں پر بچوں کو ڈائپر میں مت رکھا کیجئے۔ ہمارا عمر عالم گھر پر ڈائپر میں نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے اس عمر میں بچہ بار بار پیشاب کرتا ہے سو وہ کرتا ہے اور ماں اسے صاف کرتی ہے، درجنوں پجامے اور پلاسٹک پر بچھائے جانے والے کپڑے گندے ہوتے ہیں سو ہوتے ہیں اور اس کی ماں انہیں دھوتی ہے۔ جنت ویسے ہی ماؤں کے قدموں تلے تھوڑی رکھدی گئی ہے۔ اگر بچوں نے پاخانے ڈائپر میں اٹھائے پھرنے ہیں تو جنت پھر ماؤں کے قدموں تلے نہیں بلکہ ڈائپر بنانے والی کمپنی کے مالک کے قدموں تلے تلاش کرنی شروع کر دیجئے