میں لسی لینے بازار گیا یہ سردیوں کے دن تھے جب میں انارکلی بازار پونچھا تو وہاں ایک دودھ دہی کی دکان پر شمع جل رہی تھی میں نے دکان والے کو لسی کا کہا تو اس نے اس وقت ہی بنا دی میں نے پیسوں کا کیا تو دکان والے نے کہا اقبال کے ساتھ ہمارا حساب چلتا ہے علی بخش لسی لے آے اور مہمانوں کو دے دی ۔دو گلاس بزرگوں نے پیے اور ایک گلاس علامہ کو پینے کا کہا گیا اقبال نے بھی پی لیا پر محجھے دوبارہ مدعو کیا گیا میں کمرے میں دوبارہ گیا تو مہمان وہاں سے جا چکے تھے علامہ اقبال نے کہا ان کو واپس بلا کر لاو میں ان سے ابھی اور باتیں کرنی ہیں میں نے کہا دروازہ اندر سے بند ہے تو اس پر وہ خاموش ہو گے ۔علی بخش کہتے ہیں میں نے بہت دنوں کے بعد پوچھا حضور وہ کون شخصیات تھی جن کی میں نے بھی زیارت کی ہے علی بخش کہتے ہیں میرے بے حد اسرار پر علامہ نے کہا یہ راز میری زندگی میں کسی کو نہیں بتانا اس شرط پر علامہ نے بتایا کے ان میں سے ایک خواجہ معین الدین تھے اور جو دکان پر لسی والے تھے وہ داتا علی ہجوری تھے کیونکہ یہ ان کے مہمان تھے
Thursday, 8 November 2018
وہ رات جس میں حضرت داتاعلی ہجوری اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی علامہ اقبال کے گھرمہمان بن کرآے ۔ علامہ اقبال کے گھر میں ملازم علی بخش جن کا ذکر علامہ اقبال اپنی شاعری میں بھی کیا ہے علی بخش علامہ اقبال کی
میں لسی لینے بازار گیا یہ سردیوں کے دن تھے جب میں انارکلی بازار پونچھا تو وہاں ایک دودھ دہی کی دکان پر شمع جل رہی تھی میں نے دکان والے کو لسی کا کہا تو اس نے اس وقت ہی بنا دی میں نے پیسوں کا کیا تو دکان والے نے کہا اقبال کے ساتھ ہمارا حساب چلتا ہے علی بخش لسی لے آے اور مہمانوں کو دے دی ۔دو گلاس بزرگوں نے پیے اور ایک گلاس علامہ کو پینے کا کہا گیا اقبال نے بھی پی لیا پر محجھے دوبارہ مدعو کیا گیا میں کمرے میں دوبارہ گیا تو مہمان وہاں سے جا چکے تھے علامہ اقبال نے کہا ان کو واپس بلا کر لاو میں ان سے ابھی اور باتیں کرنی ہیں میں نے کہا دروازہ اندر سے بند ہے تو اس پر وہ خاموش ہو گے ۔علی بخش کہتے ہیں میں نے بہت دنوں کے بعد پوچھا حضور وہ کون شخصیات تھی جن کی میں نے بھی زیارت کی ہے علی بخش کہتے ہیں میرے بے حد اسرار پر علامہ نے کہا یہ راز میری زندگی میں کسی کو نہیں بتانا اس شرط پر علامہ نے بتایا کے ان میں سے ایک خواجہ معین الدین تھے اور جو دکان پر لسی والے تھے وہ داتا علی ہجوری تھے کیونکہ یہ ان کے مہمان تھے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment