Pages

Saturday, 10 November 2018

انکل دیکھنے میں چھوٹا نظر آتا ہوں لیکن حقیقت میں اپنے گھر کا بڑا اور اپنے والد کے بعد گھر کا زمہ دار ہوں

موٹروے اور عام سٹرکوں پر جو ڈھابے موجود ہیں۔ ان ڈھابوں پر کام کرنے والے بچے جنھیں معاشرے کے لوگ اور ان کے اپنے مالکان اکثر چھوٹے کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان ننھے چھوٹو بچوں کی سوچ کیسی ہوتی ہے۔ میرے ساتھ بھی ایک واقعہ پیش آیا جس نے میرا دل ہلا کر رکھ دیا۔ اور اس واقعے کا اثر کئی دن تک میرے اوپر رہا اور مجھے لکھنے پہ مجبور کیا۔ آخر یہ بچے بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں ۔ان کو بھی تو پڑھنے لکھنے کا حق ہونا چاہیے۔ میں موٹروے پر جا رہا تھا راستے میں ایک ڈھابے پر چائے پینے کے لیے رکا۔ اس ڈھابے پرتین بچے ملازم تھے جن میں سے ایک بچہ انتہائی معصوم لگ رہا تھا جیسے کوئی معصوم فرشتہ ہو ۔میں نے اس بچے کو اپنے پاس بلا کر اس سے بات کرنا شروع کردی ۔تم سکول جاتے ہو ،جی ہاں انکل میں پانچویں جماعت کا طالب علم ہوں تمارے ابو کیا کرتے ہیں۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوے میں نے بچے کی آنکھوں میں نمی دیکھی جی میرے ابو اس دنیا اب نہیں ہیں میں نے اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور پھر پوچھا تمہارا کوئی بڑا بھائی ہے تو اس نے کہاانکل گھر میں بڑا میں ہی ہوں اور ابو کے جانے کے بعد یہ زمہ داری اب مجھ پرہے امی کے ساتھ کماتا ہوں ۔ سکول کے بعد رات دیر تک میں ادھر کام کرتا ہوں اور اس آمدن سے ہمارا گزر بسر ہوتا ہے ابھی میں اس سے بات کر ہی رہا تھا تو اس کے مالک نے اسے چھوٹے کہہ کر بلایا میں بچے کو دیکھ کر جذباتی ہو رہا تھا کہ بچہ دوبارہ واپس آیا اور کہنے لگا انکل دیکھنے میں چھوٹا نظر آتا ہوں لیکن حقیقت میں اپنے گھر کا بڑا اور اپنے والد کے بعد گھر کا زمہ دار ہوں میں اس بچے کی باتیں سن کر میں حیران رہ گیا کہ اتنی کم عمری میں اتنی پختہ باتیں جب کے دوسری طرف دیکھاجاے تو اس عمر میں بچے کارٹونز کے بارے میں ہی بتا سکتے ہیں ۔ معاشرے کے اندر بہت سے کردار ایسے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جن کو دیکھ کرخطرہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی اب مشکل ہے لیکن وہ اللہ پر توکل کر کے ہماری آنکھوں کے سامنے تمام تر حالات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ میں نے اس بچے کی مدد کرنے کے لیے اپنا بٹوہ نکالا تو اس بچے نے یہ کہتے ہوئے پیسے لینے سے انکار کر دیا انکل اس کی کوئی ضرورت نہیں میں خود کما لیتا ہوں ۔ جہاں پر ضرورت اس امر کی ہے حکومتی سطح پر ایسے بچوں کی مدد کی جاے اور یہ ریاست کی زمہ داری میں شامل ہے کہ حکومت ان کی تعلیم کے ساتھ ماہانہ وظیفہ رکھے تاکہ ایسے بچے جن کی کفالت والا کوئی نہیں ہے وہ بھی مستقبل میں اچھی تعلیم حاصل کر کے ملک اور قوم کا نام روشن کر سکے۔ از قلم۔ محمد احمد درانی

No comments:

Post a Comment