ایک مرتبہ علامہ محمد اقبال بچپن میں تہجد کے وقت بیدار ہوے تو دیکھا کہ ان کے والد گرامی شیخ نورمحمد جائے نماز پر بیٹھے تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے۔ اوران کے اردگرد نور کا ایک حلقہ بنا ہوا تھا آپ نے اپنی والدہ سے اس کا استفسارکیا تووالدہ نے جواب دیا کہ آپ ابھی چھوٹے ہو جب آپ بڑے ہوں گے توآپ کو خودبخودہی پتا چل جاے گا۔ ایسے سوال نہیں کیا کرتے چلو اب سو جاوۤ۔ آپ پھر والدہ کے پہلو میں پہلے کے طرح سوگے اور پھر دوبارہ سے اپ کو اپنے والدین سے یہ سوال کرنے کے ہمت نا ہوئی۔ جب علامہ اقبال بڑے ہو گئے تو آپ نے نورووجدان کا مشاہدہ خود کیا جن کا ذکر ان کے اپنے اشعار میں ملتا ہے۔
ہوصداقت کے لیے جس دل میں مرنے کے تڑپ
پہلے اس پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے
سوئے فلک بھجے سفیر نالہء شب گیر کا رات کے تاروں میں اپنے رازداں پیدا کرے۔ اسی کشمکش میں گزری میری زندگی کی راتیں کبھی سوزساز رومی کبھی پیچ وتاب جامی

Fabulous
ReplyDeleteSpiritualism of iqbal
ReplyDelete