علامہ اقبال کی وہ نظم جو پیروں کے خلاف لکھی مولوی آپ کو نہیں بتاہیں گے
علامہ اقبال کی ایک نظم باغی مرید ہے جس میں علامہ اقبال نے جعلی قسم کے پیر جن کا مقصد دنیا کی خوشنودی اور شہرت ہے ان کو علامہ نے اپنی اس نظم میں خوب آڑے ہاتھوں لیا ۔اور اپنی تنقید کا نشانہ بنایا علامہ اقبال اس نظم میں لکھتے ہیں
باغی مُرید
ہم کو تو میسّر نہیں مٹّی کا دِیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
شہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہ
مانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن
نذرانہ نہیں، سُود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقۂ سالوس کے اندر ہے مہاجن
میراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصّرف میں عقابوں کے نشیمن
اقبال کی اس نظم کے تنا ظر میں دیکھیں تو ہمیں دور حاضر میں بھی ایسے بیشتر پیر اور مولوی ملئے گے جن کے اندر اخلاص موجود نہیں ہو گا

The King Casino: Best Casino Software and Games
ReplyDeleteThe King Casino software company is well-known in the world of online wooricasinos.info casino games. It has poormansguidetocasinogambling.com been in business goyangfc since 2001, but ventureberg.com/ it ford fusion titanium now offers live dealer casino games