Pages

Sunday, 4 November 2018

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ؛؛ حلیم ڈش ؛؛ کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم" اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور حلیم بنانا


؛؛؛ لفظ حلیم پر تحقیق؛؛


کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ؛؛ حلیم ڈش ؛؛ کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم" اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور حلیم بنانا

کے افعال کے ساتھ اس لفظ کا استعمال گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔

امید ہےکہ وہ اپنے مقدمات کے لئے "وکیل" تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انسان کو وکیل کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اور یا پھر وہ وہ وکیلوں کے بارے میں مشہور ترین شعر سے بھی اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔"حکیم" سے دوا بھی نہیں لیتے ہوں گے کہ انسان حکیم کیسے ہو سکتا ہے؟

نہ تو ان کے بچے مدرسوں میں "اوّل" آتے ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس "آخر" میں کچھ "باقی" رہ جاتا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام بھی اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مرنے کے بعد ان کا کوئی" ولی" بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ انسان ولی کے درجے پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ یہ متقیان یقیناً مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو بھی "قابض" نہیں کہتے ہوں گے۔ 'ساڈی "باری" آن دیو' کا نعرہ بھی انہیں کفّار کی سازش لگتا ہوگا۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر "لطیفہ" کہنا بھی بے ادبی کے زمرے میں آنے لگے گا اور "ملِک" صاحب کہنا تو پھر سیدھا سیدھا کفر ہی ٹھہرےگا۔

لفظ " مصوّر" کے لئے تو پھر فتویٰ لینے کے بھی ضرورت نہیں ہے۔ کسی صحابی، ولی اللہ یا بادشاہ کو "جلیل" القدر کہنا شرک ٹھہرے گا اور "شہید" کا استعمال انسانوں کے لئے متروک قرار پائے گا۔ کسی کو " عظیم" کہنے پر پابندی ہوگی اور "مقتدر" قوتیں کہنے پر تعزیر جاری کی جائے گی۔ کوئی انسا کسی کا " والی" " وارث" نہیں کہلائےگا کیوں کہ یہ دونوں بھی اسمائے الہٰی ہیں۔ "ظاہر" و " باطن" بھی انسانوں کے لئے ممنوع قرار پائیں گے۔ کوئی عمل یا کاروبار " نافع" ہوگا اور نہ کوئی مسجد یا کتاب "جامع" کہلائے گی۔ بیشتر اردو شاعری کو دریا بُرد کرنا پڑے گا کیونکہ ناہنجار شاعروں نے "رقیب" کی دل کھول کر برائیاں کی ہیں جو کہ اس نئے اسلامی نظام کے بالکل خلاف ہے۔ اسی ہی طرح نہ تو کوئی کام "مؤخر" کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی کی برائی کرتے ہوئے اسے "منتقم" مزاج کہنے کی اجازت ہو گی۔

یہاں پر ایک سنگین مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت پڑے گی کہ صدیوں سے علمائے اسلام حضرت عثمان کو " غنی" لکھ رہے ہیں۔ اب ان کی تمام کتابوں کو کس طرح سے درست کیا جاسکتا ہے۔ اور اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آقائے دوجہاں، نبی آخر الزّماں نے تمام عمر اپنے عزیز ترین صحابی، عم زاد اور داماد کو "علی" کے نام سے پکارا اور یہ عمل نہ تو ربِّ کائنات کی بے ادبی کا باعث بن اور نہ ہی موجبِ شرک ٹھہرا۔ اب یہاں اس نئے فہمِ اسلام کو کیسے نافذ کیا جائے گا؟؟

ایسی باتیں کرنا جن سے عوام کے دل پراگنده اور خیالات منتشر هوں انتہائی غیر مناسب ہیں جیسا که یہی حلیم والی بات

عوام کے وہم و گمان میں بهی نہیں هو گا که الله تعالی کی بے ادبی کرتے ہیں، پهر خواه مخواه ایسی بات پهیلا کر انہیں پریشان کرنا دین کی خدمت نہیں بلکه عوام کی پریشانی هے

1:"آپ بخوبی جانتے ہیں که الله کے بہت سے صفاتی نام ہیں کچھ خاص ہیں جو اس کے سوا کسی پر نہیں بولے جا سکتے اور باقی مخلوق پر بهی بولے جاتے ہیں جیسے عظیم، کریم، رؤوف وغیره جیسے یه مخلوق پر بولنے سے کوئی بے ادبی نہیں هوتی ایسے هی حلیم بولنے سے بهی قطعا کوئی بے ادبی لازم نہیں آتی، بے ادبی لازم آنا تو دور کی بات هے بے ادبی کا شائبه بهی نہیں هوتا

2:"اگر کهانے کی ڈش کو حلیم کہنے سے بے ادبی کا شائبه پیدا هوتا هے تو حلیم کی تانیث ذکر کرنے سے بدرجه اولی هو گا کیونکه الله تعالی تذکیر و تانیث سے پاک هے حالانکه هم جانتے ہیں که ایسا بالکل نہیں بلکه اس کی تانیث خود حضور اقدس کے زمانے میں بولی جاتی تهی اور حضور علیه الصلوة والسلام نے اس سے منع نہیں فرمایا جیسا که آپ کی رضاعی والده کا اسم گرامی حلیمه سعدیه هے جب که حلیمه حلیم کی هی تانیث هے

3:"الله کے نیک بندوں کو بهی کی ان کی برد بار طبیعت کی وجه سے حلیم الطبع کہا جاتا هے

پته چلا که حلیم مخلوق پر بهی بولا جا سکتا هے اور کهانے کی ڈش بهی مخلوق هی هے لہذا اس پر بهی بول سکتے ہیں.

خواه مخواه اپنی انفرادی علمیت جتانے کے لیۓ دلوں کو پراگنده کرنے اور خیالات کو منتشر کرنے والی غیر مناسب باتیں کرنا علما کا منصب نہیں

1 comment:

  1. Casinos in Vegas, NV | DRMCD
    Find Casinos in Vegas, NV casinos and 구미 출장마사지 get information about their games, promotions, loyalty program, game selection 계룡 출장마사지 and more. 이천 출장안마 MGM National Harbor 경상남도 출장안마 Casino 인천광역 출장샵 in Atlantic City.

    ReplyDelete